بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے مستونگ کے باغات کو مبینہ طور پر دہشتگردی کے لیے استعمال کیے جانے اور باغات کے مالکان کو انہیں ختم کرنے اور کیمپوں میں منتقل کرنے کی دھمکی پر شدید تشویش اور سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ باغات کاٹنے کی دھمکی محض درختوں کو کاٹنے کی بات نہیں، بلکہ بلوچستان کے ہزاروں خاندانوں کے معاشی مستقبل، صدیوں پرانے زرعی کلچر اور عوام کے بنیادی حقوق کو روندنے کی دھمکی ہے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ مستونگ کے باغات کسی فرد یا خاندان کی محض ملکیت نہیں بلکہ نسلوں کی محنت، محبت اور معاشی جدوجہد کی علامت ہیں۔ بلوچستان میں جہاں صنعتیں اور روزگار کے وسیع مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، جہاں ہزاروں نوجوان سرکاری ملازمت کے انتظار میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، وہاں باغات اور زراعت ہزاروں خاندانوں کا واحد ذریعۂ معاش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تہذیبی تاریخ میں زراعت اور زمین سے وابستگی کوئی نئی چیز نہیں۔ مہرگڑھ کی قدیم تہذیب سے لے کر آج تک زمین، پانی، کھیتی باڑی اور باغات بلوچ معاشرے کی معاشی اور ثقافتی زندگی کا بنیادی حصہ رہے ہیں۔ ان باغات کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنا بلوچستان کے تاریخی اور سماجی حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ کسی قوم کے معاشی وسائل اور ثقافتی جڑوں کو کمزور کرکے ترقی، امن اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ امن کے نام پر عوام کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر حکومت کے پاس کسی شخص یا گروہ کے خلاف شواہد موجود ہیں تو ریاستی قوانین اور آئین کے تحت کارروائی کی جائے۔ لیکن کسی جرم کا الزام پورے علاقے، باغات کے مالکان یا عام شہریوں پر ڈال کر ان کے معاشی وسائل تباہ کرنے کی دھمکی دینا نہ انصاف ہے، نہ حکمرانی اور نہ ہی امن کے قیام کا راستہ۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو اپنی حکومت کی انتظامی کمزوریوں، ناکام پالیسیوں اور Bad Governance پر پردہ ڈالنے کے لیے آئے روز ایسے متنازع بیانات دینے کے بجائے بلوچستان کے حقیقی مسائل—بے روزگاری، تعلیم، صحت، پانی، روزگار، امن و امان اور بنیادی سہولیات—کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت کا کام عوام کے باغات اجاڑنے کی دھمکیاں دینا نہیں بلکہ عوام کے لیے روزگار، تحفظ اور بہتر مستقبل پیدا کرنا ہے۔
مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او پجار بلوچستان کے عوام کے معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی حقوق پر کسی بھی قسم کی یلغار کو خاموشی سے برداشت نہیں کرے گی۔ مستونگ کے باغات بلوچستان کے عوام کی محنت کا ثمر ہیں؛ انہیں دھمکیوں سے نہیں بلکہ تحفظ اور بہتر زرعی پالیسیوں سے مضبوط کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، دھمکیوں اور اجتماعی سزا کی زبان ترک کرے اور عوام کے ساتھ تصادم کے بجائے مکالمے اور آئین و قانون کا راستہ اختیار کرے۔ بلوچستان کے عوام کو خوفزدہ کرکے ان کے معاشی وسائل اور ثقافتی شناخت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اپنے متنازع بیان کو واپس لیں، مستونگ کے باغات اور ان سے وابستہ خاندانوں کے معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور کسی بھی بے بنیاد اور غیر آئینی بیانات کا گریز کیا جائے۔
بی ایس او پجار واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام کے معاشی و ثقافتی حقوق پر کسی بھی حملے کے خلاف جمہوری، سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔