باغات اور گھر مسمار کرنے سے امن قائم نہیں ہوسکتا، نواب اسلم رئیسانی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے مستونگ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں زمینداروں کے پھلدار باغات کاٹنے، لوگوں کو علاقوں سے بے دخل کرنے اور گھروں و معاشی ذرائع کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کے اقدامات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ پھلدار باغات کی کٹائی، لوگوں کی بے دخلی اور ان کے گھروں و معاشی ذرائع کی تباہی قبائل اور عام آدمی کو متنفر کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ محسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بے دخلی اور تباہی ہی مسئلے کا حل ہوتیں تو شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، دیر بالا، دیر زیریں، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں گھروں اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنے کے بعد آج مکمل امن قائم ہوچکا ہوتا۔

نواب اسلم رئیسانی نے ماضی کی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیوں کا نتیجہ امن کے بجائے تباہی، بے دخلی اور قبائل کی طویل دربدری کی صورت میں نکلا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج اپنے بارود سے جتنی بھی تباہی اور بربادی برپا کرے، بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کی جاسکتی ہے، امن نہیں۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ امن اور آشتی کا ماحول صرف سیاسی سوچ، سیاسی عمل اور باعزت و باوقار مکالمے کے ذریعے ہی تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article