بلوچ ویمن فورم نے 23 اگست 2026ء کوپاکستانی فورسز کے ہاتھوں کوئٹہ سے 20 سالہ صفیہ بلوچ کی جبری گمشدگی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ فورم کے مطابق ایک جوان سال خاتون کا اغوا اور ان کے ٹھکانے کو دانستہ طور پر پوشیدہ رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور قانون کی حکمرانی پر براہِ راست حملہ ہے۔ جبری گمشدگی کو جبر و استبداد کا نارمل اور معمول کا طریقہ کار بننے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔
بیان میں کہاگیا کہ صفیہ بلوچ کی ناگہانی گمشدگی نے ان کے اہلخانہ کو شدید ذہنی اذیت اور ناقابلِ برداشت غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ خود صفیہ کو تمام تر بنیادی قانونی تحفظات سے محروم کر دیا گیا ہے۔
انہو ں نے کہا کہ عدالتی نگرانی کے بغیر، کسی کا ٹھکانہ بتائے بغیر اور اہلخانہ کو رسائی دیے بغیر کسی خاتون کو غائب کر دینا اختیارات کا فاش اور شدید ترین انحراف ہے، جو کہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ ویمن فورم خوف و ہراس پھیلانے، ڈرانے دھمکانے اور سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اغوا، بلاجواز حراست اور جبری گمشدگی جیسے حربوں کے استعمال کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ یا اتھارٹی قانون سے بالاتر نہیں ہے، اور نہ ہی کسی خاتون کو اس طرح عوامی و قانونی تحفظ سے محروم کر کے غائب کیا جا سکتا ہے۔
فورم کے مطابق بلوچ ویمن فورم صفیہ بلوچ کے ٹھکانے کا فوری اور بلا مشروط انکشاف، ان کی سلامتی کی ضمانت اور ان کے اہلخانہ کو ان تک بلا تعطل رسائی دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔
آخر میں فورم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر حکام کے پاس صفیہ بلوچ کو حراست میں رکھنے کی کوئی قانونی وجہ یا جواز موجود ہے، تو انہیں فوری طور پر ایک آزاد اور بااختیار عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور انہیں تمام قانونی دفاعی حقوق دیے جائیں، بصورتِ دیگر انہیں بلا تاخیر آزاد کیا جائے۔ صفیہ بلوچ کو خاموشی کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے خاندان کو سچ جاننے کا پورا حق ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بلوچ خواتین کے اس طرح کے اغوا اور جبری گمشدگیوں کو معمول کا طریقہ کار بننے سے روکے۔