9 بلوچ خواتین کی گرفتاری پر انعام کا اعلان، پاکستان کا افغانستان سے بی ایل اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں محکمہ داخلہ نے مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 9 مقامی خواتین کی گرفتاری پر انعام مقرر کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغان طالبان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کالعدم بی ایل اے اورٹی ٹی پی جیسے عناصر کے استعمال سے روکے۔

بلوچستان حکومت کے محکمہ داخلہ نے ضلع گوادر، جیونی اور تربت سے تعلق رکھنے والی 9 مقامی خواتین کو مسلح سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعام مقرر کیا ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان کے معاون خصوصی کے مطابق مطلوب خواتین سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کو 10 سے 15 لاکھ روپے تک انعام دیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ خواتین بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں سے رابطے میں ہیں اور مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان سے درجنوں خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد حکام نے انہیں مفرور قرار دیا ہے، جن میں حب چوکی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی 17 سالہ نسرین بلوچ بھی شامل ہیں، جنہیں فرار ہونے والی خودکش بمبار قرار دیا گیا تھا۔

دریں اثنا، ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم افغانستان کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ افغان عبوری حکومت دوحہ فریم ورک سمیت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے اور افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت پاکستان مخالف عناصر کے استعمال سے روکے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ادارہ جاتی رابطے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کے نتیجے میں قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات ہوں۔ پاکستان موثر سرحدی انتظام چاہتا ہے اور افغانستان کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل میں عملی و قابلِ تصدیق پیش رفت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article