نواب اکبر خان بگٹی: ایک عظیم رہنما جنہوں نے غلامی پر مزاحمت کو ترجیح دی، بی این ایم

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے شہید نواب اکبر خان بگٹی کو ان کے یومِ شہادت کے موقع پران کی عظیم قربانی پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے بلوچ قوم و بلوچستان کے لیے ان کی جدوجہد کو سلام پیش کیا ہے۔

بیان میں شہید نواب اکبر خان بگٹی کا ایک قول پیش کیا گیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ "ہم بلوچ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ موت کا بہترین طریقہ لڑتے ہوئے مرنا ہے۔ ہم بلوچ اپنی تقدیر کے خود مالک ہیں، اور اگر یہ حق ہم سے چھین لیا جائے تو پھر زندگی کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔”

بی این ایم کے بیان میں کہاگیا کہ شہید نواب اکبر خان بگٹی بلوچستان کے عظیم اور نڈر رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ ایک قبائلی قائد ہونے کے باوجود، انہوں نے بلوچ قومی سیاست میں ایک بلند اور نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ ان چند بابصیرت رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اس حقیقت کو واضح طور پر درک کر لیا تھا کہ بلوچ قوم کے حقوق، سرزمین، وسائل اور مستقبل کے تحفظ کے لیے مزاحمت و مقاومت کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ بلوچستان میں عائد کیے جانے والے ترقیاتی منصوبے محض معاشی اقدامات نہیں ہیں، بلکہ ان کے نظرئے کے مطابق، ان کے ذریعے بلوچ قوم کو ان کی زمین اور قدرتی وسائل سے محروم کرنے اور بلوچستان کا آبادیاتی توازن تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے دور میں نافذ کی جانے والی استحصالی معاشی پالیسیوں اور منصوبوں کی کھل کر اور بے باکانہ مخالفت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ شہید نواب اکبر خان بگٹی نے بلوچ سرزمین اور قدرتی وسائل پر بلوچ ملکیت کے تحفظ کے لیے ایک سیاسی فریم ورک بھی پیش کیا، جسے "بگٹی ڈوزیئر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے مطالبات سراسر سیاسی اور بلوچ قوم کے حقوق، وسائل اور روشن مستقبل کے گرد گھومتے تھے۔

ترجمان نے کہا کہ ان کے ان پُرامن سیاسی مطالبات کے جواب میں، پرویز مشرف کے تحت پاکستانی ریاست نے ان کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا۔ ڈیرہ بگٹی کا مکمل محاصرہ کر کے ان کی رہائش گاہ اور گرد و نواح کے علاقوں پر شدید بمباری کی گئی۔ بالآخر انہیں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا، لیکن اپنی سرزمین کو چھوڑنے یا ہتھیار ڈالنے کے بجائے نواب اکبر خان بگٹی نے پُروقار مزاحمت کا راستہ منتخب کیا۔

انہوں نے تراتانی کے پہاڑوں میں پناہ لی، جہاں ان کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔ 26 اگست 2006ء کو اس حملے کے دوران نواب اکبر خان بگٹی کو شہید کر دیا گیا۔

تنظیم کے مطابق ان کی شہادت بلوچ قومی آزادی کی جدید تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔ ان کی اس عظیم قربانی نے بلوچ نوجوانوں کی نئی نسل کو گہرے طریقے سے متاثر کیا اور اس نظریے کو جلا بخشی کہ بلوچ قوم کی بقا، وقار اور آزادی کی جدوجہد کو مقاومت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کو بلوچ قومی تحریک کے ایک بہادر اور تاریخی رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،ایک ایسا رہنما جس نے تسلیم خم ہونے سے انکار کیا اور سرفروشی کو ترجیح دی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article