امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کی گئی نئی پابندیوں کو ’تاریخ کی سب سے بڑی مالیاتی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے ایران کے خلاف اس اقدام کو ’اقتصادی ڈی ڈے‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تمام معاشی روابط منقطع کر دے گا۔
انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مالی شراکت داری رکھنے والے ممالک کو بھی عالمی اقتصادی نظام سے الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔
تاہم ایرانی حکومت کے خلاف یہ تازہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تنازع کے خاتمے کی امریکی کوششوں کے دوران وائٹ ہاؤس کئی بار اپنی پالیسی میں تبدیلیاں کر چکا ہے اور مختلف ڈیڈ لائنز میں توسیع بھی کرتا رہا ہے۔
امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ اقتصادیات علی مدنی زادہ نے کہا ہے کہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دو سالہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جو ان کے بقول واشنگٹن کے لیے ایک اور ناکامی کا باعث بنے گا۔
جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر تنازع جاری رہا تو وہ خطے سے تیل کی تمام برآمدات روک دے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حکومت نے جہاز رانی کے شعبے کو بھی نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز اس کی اجازت کے بغیر اس راستے سے سفر نہ کریں۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اور فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے عملی طور پر یہ ترسیل متاثر رہی ہے۔
سوموار کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران سکاٹ بیسنٹ نے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کی تفصیلات پیش کیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے عالمی مالیاتی روابط کے خلاف ایک ’وسیع اقتصادی یلغار‘ شروع کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سامنے اب صرف دو راستے ہیں: یا تو مکمل عالمی تنہائی، یا پھر معمول کے تعلقات کی جانب واپسی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکہ ’اب ایرانی خطرے کو محض قابو میں رکھنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اسے مکمل طور پر ختم کرنے جا رہا ہے۔‘
بیسنٹ نے کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے اُن نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور مالیاتی ذرائع کا سراغ لگا لیا ہے جنھیں ایران پابندیوں سے بچنے اور تیل کی تجارت جاری رکھنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
محکمۂ خزانہ کے مطابق اس نے پانچ شعبوں کے خلاف باضابطہ اقدامات کیے ہیں، جن میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور جہاز رانی شامل ہیں۔
محکمے نے یہ بھی کہا کہ تقریباً 60 اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔