بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے معروف عالمی جریدے ’دی سنڈے گارڈین‘ (The Sunday Guardian) کے سینئر صحافی ابھینندن مشرا کو بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال اور بلوچ تحریک آزادی کے حوالے سے ایک خصوصی انٹرویو دیا ہے جو گذشتہ روز 23 اگست کو شائع ہو اہے ،مکمل متن کے ساتھ یہاں پیش کی جارہی ہے جو سینیئر صحافی کیا بلوچ نے ترجمہ کیا ہے۔ہم اسے بلوچ قوم اور اپنے قارئین کے معلومات و دلچسپی کے پیش نظر سنگر نیوز میں شائع کر رہے ہیں تاکہ ریکارڈ میں رہے ۔ ادارہ سنگر
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے تجربہ کار سربراہ اور دہائیوں سے جاری بلوچ علیحدگی پسند بغاوت کے سب سے نمایاں رہنماؤں میں سے ایک ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سنیڈے گارڈین کو ایک نامعلوم مقام سے بات چیت کی۔ ڈاکٹر اللہ نذربلوچ جو خود ایک تربیت یافتہ ڈاکٹر ہیں، نے کہا کہ بلوچ جنگجوؤں کی نئی نسل مسلح تحریک میں نئی سیاسی اور فوجی حکمت عملیاں لا رہی ہے۔ اس خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر اللہ نذربلوچ نے خبردار کیا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں جائز ہدف ہو سکتی ہیں اور انہوں نے بھارت سے تحریک کو سیاسی، سفارتی اور مادی مدد فراہم کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خودمختاری یا سیاسی رعایتوں کے بجائے مکمل آزادی ہی اب واحد قابل قبول حل ہے۔دی سنڈے گارڈین
ابھینندن مشرا:
اس سال خاص طور پر بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیرو 2.0 اور اس کے بعد بلوچستان لبریشن فرنٹ کے نال، نوشکی، کیچ اور پنجگور جیسے مقامات پر اس کے بعد کے آپریشنز کے بعد، بلوچ مسلح تحریک نے کارروائی کی صلاحیت میں واضح فرق کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ بلوچ مسلح تحریک اب تنازعے کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، اور اس مرحلے کا فوجی مقصد کیا ہے؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ بلوچ آزادی کی تحریک میں شدت آئی ہے۔ پہلے، یہ اس خطے میں ایک طویل عرصے سے جاری آزادی کی تحریک رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں بلوچ آزادی کے سرمچاروں نے نوآبادیاتی طاقت، یعنی پاکستانی فوج، کے خلاف تقریباً تین دہائیوں کی جنگ کے دوران وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔ ہمارے سرمچاروں نے اپنے دشمن کی حماقت اور کمزوریوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
اس لیے بلوچستان دوسرے علاقوں سے کافی مختلف ہے، کیونکہ بلوچ آزادی کی تحریک ایک مقامی اور اندرونی تحریک ہے۔ مقامی بلوچ عوام کی حمایت اور بلوچستان کا وسیع جغرافیہ، بلوچ آزادی کے سرمچاروں کے لیے ہماری فطری مدد ہیں۔
ابھینندن مشرا:
آج بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ سمیت مختلف مسلح تنظیمیں بلوچستان میں سرگرم ہیں، جن کی کارروائیاں ایک دوسرے سے ملتی جلتی مگر مکمل طور پر ایک جیسی نہیں ہیں۔ آج آپ کی بی ایل اے کے ساتھ کس حد تک رابطہ کاری ہے؟ کیا ان تنظیموں کے درمیان کوئی عملی تعاون کا طریقۂ کار موجود ہے، یا آپ دونوں تحریکوں کو حکمتِ عملی کے لحاظ سے الگ سمجھتے ہیں؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
یہ واضح ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف ایک دوسرے کے ساتھ نظریاتی، اسٹریٹجک اور عملی سطح پر زیادہ بہتر طور پر مربوط ہیں۔
ابھینندن مشرا:
آپ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان کے انتہائی مطلوب بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں میں شامل رہے ہیں، اور پاکستانی حکام بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ آپ مارے جا چکے ہیں یا ناکارہ بنا دیے گئے ہیں، مگر آپ بی ایل ایف کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ آپ کے خیال میں پاکستانی ریاست آپ کو ختم یا گرفتار کرنے میں کیوں ناکام رہی ہے، اور بلوچ مسلح تحریک کی موجودہ حکمتِ عملی اور کارروائیوں کی کتنی قیادت ذاتی طور پر آپ کے ہاتھ میں ہے؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
درست ہے، ہمارا دشمن نہ صرف مجھے بلکہ دوسرے کارکنوں کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہماری شہادت کی افواہیں پھیلاتے ہیں، مگر ناکام رہے ہیں۔ ہماری تنظیمی ساخت ایسی ہے کہ ہم ایک کمانڈ چین کے تحت جنگ لڑتے ہیں۔ ہمارے پاس سیاسی فائدے کے لیے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی موجود ہے۔ ہم خود کو یا اپنی جدوجہد کو ایک ہی جگہ محدود نہیں رکھتے؛ ہم دشمن کی نقل و حرکت کے مطابق وقتاً فوقتاً اپنی حکمتِ عملی بدلتے رہتے ہیں۔ مگر منزل بلوچ آزادی ہے۔
ابھینندن مشرا:
بلوچستان تانبے، سونے اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہے، اور ریکوڈک اور سینڈک جیسے منصوبے پاکستان اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ کیا بی ایل ایف بلوچستان کے معدنی وسائل کی پاکستان اور غیر ملکی کمپنیوں کے ذریعے نکاسی کی مکمل مخالفت کرتی ہے، یا اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ آمدنی، ملکیت اور کنٹرول کی موجودہ ساخت کیا ہے؟ اگر ایک آزاد بلوچستان قائم ہو جائے تو آپ کس نوعیت کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور وسائل کی تقسیم کا تصور کرتے ہیں؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
بلوچستان نایاب معدنیات، تیل، سونے اور قدرتی گیس سے مالا مال ہے، اور اس کی ساحلی پٹی سینکڑوں کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ ہم ریکوڈک اور سینڈک جیسے تمام استحصالی منصوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم بلوچستان کی اسٹریٹجک حیثیت کو قابض پاکستان اور اس کے شراکت داروں کے استعمال کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ نوآبادیاتی پاکستان نہ صرف ہماری قدرتی دولت نکالنا چاہتا ہے، بلکہ ہماری قومی شناخت، ثقافت، زبان اور بلوچ طرزِ زندگی بھی خطرے میں ہیں۔ اسی لیے بلوچوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں۔
ہم نہ صرف پاکستانی قابض قوت کے خلاف بلکہ ان تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی طاقتوں کے خلاف بھی ہیں جو پاکستان کے ساتھ مل کر ہمارے وسائل کی لوٹ مار میں شامل ہیں یا شامل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں، اور میں ان سب سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری سے باز رہیں۔ پاکستان کے ساتھ مل کر بلوچستان میں معدنیات کی تلاش اور نکاسی کے لیے کی گئی سرمایہ کاری کو ہم اپنے وسائل کے استحصال اور اپنے دشمن کو مضبوط کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ایسی کمپنیاں اور ان کی سرمایہ کاری ہمارے لیے جائز ہدف ہیں۔البتہ جب بلوچستان آزاد ہو جائے گا تو ہم آزاد ممالک کے اختیار کردہ اصولوں کے مطابق اپنے وسائل بلوچ عوام کی فلاح کے لیے استعمال کریں گے۔ جیسا کہ ہم نے کہا، بلوچستان ایک فلاحی ریاست ہوگا، اور ہم اپنے وسائل بلوچ قوم کی بھلائی کے لیے بروئے کار لائیں گے۔
ابھینندن مشرا:
پاکستان مسلسل یہ الزام لگاتا ہے کہ بلوچ مسلح گروہوں کو بھارت کی جانب سے بڑی مدد ملتی ہے، جبکہ بھارت اس بغاوت کی حمایت کی تردید کرتا ہے۔ آپ ماضی میں بھارت کے کردار اور ممکنہ حمایت کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ آپ کے خیال میں آج بلوچ تحریک کو بیرونی امداد کی کس نوعیت کی ضرورت ہے، اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھارت کو مسلح جدوجہد کے لیے کھل کر سیاسی، سفارتی یا مادی حمایت فراہم کرنی چاہیے؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، میں پہلے ہی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بھارتی حمایت سے متعلق الزامات اور جھوٹی پروپیگنڈا پر تفصیل سے بات کر چکا ہوں۔
تاہم میری امید ہے کہ بھارت سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سمیت ہر سطح پر بہتر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ بھارت اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر ہمیں مادی اور سفارتی حمایت دے گا، کیونکہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ہمارے خطے کی ایک بڑی طاقت ہے۔ بلوچ آزادی کی تحریک کی ہر ممکن طریقے سے حمایت کرنا بھارت کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہماری تحریک محض ایک مسلح بغاوت نہیں بلکہ ایک مقامی قومی آزادی کی جدوجہد ہے۔
ابھینندن مشرا:
24 مئی کو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو لے جانے والی ٹرین پر حملے، اور ان حملوں میں جن میں عام شہری مارے گئے، ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ مسلح جدوجہد کے اصول کیا ہیں۔ بی ایل ایف کن اہداف کو جائز سمجھتی ہے، اور پاکستانی سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں یا ان کے اہلِ خانہ پر حملوں کے درمیان وہ کہاں حد کھینچتی ہے؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
24 مئی کا ٹرین حملہ بی ایل اے کے آزادی کے سرمچاروں اور ساتھیوں نے کیا تھا۔ ہدف فوجی اہلکار تھے، اور آزادی کے سرمچاروں نے شہریوں کو آپریشن کے دوران ٹرین خالی کر کے بحفاظت جانے کی اجازت دی تھی۔ تاہم، یہ پاکستانی فوج کی ایک غیر دانشمندانہ کارروائی تھی۔ آزادی کے سرمچاروں کے ساتھ مقابلہ ہونے کے باوجود، پاکستان فوج نے شہریوں کو قتل کیا تاکہ آزادی کے سرمچاروں پر سوالیہ نشان لگایا جا سکے۔ لیکن ہم نے کبھی شہریوں کے قتل کو جائز نہیں ٹھہرایا۔ پاکستانی فوج نے بلوچستان میں، اور اب بھی، شہریوں کے خلاف اپنی فضائیہ استعمال کی ہے۔ حال ہی میں، پاکستان کی ظالم اور وحشی قوتوں نے سوراب ضلع کے گدر میں شہریوں پر حملہ کر کے بمباری کی۔ ان بمباریوں میں متعدد بچے، خواتین اور بزرگ شہید ہوئے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ ایک کھلا جنگی جرم ہے۔ بلوچستان میں غیر جانبدار میڈیا کی رسائی نہ ہونے، جسے پاکستان نے محدود کر رکھا ہے، کے باعث وہ روزانہ یہی جرائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے نازیوں جیسے حراستی مراکز قائم کر رکھے ہیں اور بلوچ عوام کے ماورائے عدالت قتل کر رہے ہیں۔البتہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنی فضائیہ استعمال کی ہو۔ انہوں نے میری اور مشکے سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے لیے جیٹ طیارے استعمال کیے۔ انہوں نے ایک چرواہے کے خاندان پر بمباری کی، اور میر ساھو کے ایک خاندان کے دس افراد، جن میں اس کی بیوی، بھتیجے، بھائی اور بیٹا شامل تھے، قتل کر دیے۔ اس کی سب سے چھوٹی بیٹی، پانچ سالہ بختی، بھی شہید ہوئی۔ ایک اور مثال ضلع آواران کے علاقے واہلی کی ہے، جہاں انہوں نے 2015 میں جیٹ طیارے استعمال کیے اور ایک ہی خاندان کے دس سے زیادہ افراد کو قتل کیا۔ تاہم اس پر بین الاقوامی میڈیا نے توجہ نہیں دی۔ پاکستانی فوج نے بھی یہی دعویٰ کیا کہ یہ حملے بلوچ آزادی کے سرمچاروں کے خلاف تھے۔یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ پاکستانی فضائیہ نے کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے دیگر کئی علاقوں میں بھی جیٹ طیاروں اور فضائی بمباری کا استعمال کیا ہے، لیکن بی ایل ایف بین الاقوامی جنگی قوانین کا احترام کرتی ہے اور انہیں مانتی ہے۔ آپ کے میڈیا کے ذریعے ہم بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستانی فوجی جنتا، کٹھ پتلی سویلین حکمرانوں اور تمام ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ چل سکے۔
ابھینندن مشرا:
امریکہ نے بلوچ لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہے، جس سے بی ایل اے پر مالی اور قانونی پابندیاں مزید سخت ہو گئی ہیں۔ آپ اس فیصلے کو کیسے دیکھتے ہیں، اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ واشنگٹن کے بلوچ مسلح تحریک سے متعلق موقف میں کسی بڑی تبدیلی کی علامت ہے؟ کیا بی ایل اے کی نامزدگی بی ایل ایف کے لیے بین الاقوامی سیاسی گنجائش یا اس کی کارروائی کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
عالمی طاقتوں کے دنیا میں اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ امریکہ نے بلوچ لبریشن آرمی کو ایک ممنوعہ تنظیم قرار دیا ہے۔ میری رائے میں امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے پاکستان میں اپنے مفادات ہیں، اور پاکستانی فوج ایک بین الاقوامی کرائے کی فوج ہے۔ انہوں نے پہلے بھی ایسا کیا ہے؛ مثال کے طور پر بریگیڈیئر ضیاء الحق کو اردن میں تعینات کیا گیا تھا اور انہوں نے ایک ہی دن میں ہزاروں فلسطینیوں کا قتلِ عام کیا تھا، اور 9/11 کے بعد ایک بڑی طاقت کی ایک فون کال پر انہوں نے آسانی سے ہتھیار ڈال دیے۔تاہم میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ کی طرف سے بی ایل اے پر پابندی برقرار رہے گی، کیونکہ شام کی مثال بالکل واضح اور نمایاں ہے۔ وسیع تر تناظر میں مجھے لگتا ہے کہ واشنگٹن کسی نہ کسی وقت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گا۔بین الاقوامی برادری سے بھی امید کی ایک کرن یہ ہے کہ حال ہی میں جب چین اور پاکستان نے سلامتی کونسل میں بی ایل اے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد پیش کی، تو امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس کی مخالفت کی۔ یعنی انہوں نے چینی-پاکستانی قرارداد کو مسترد کر دیا۔
جہاں تک بی ایل ایف کا سوال ہے، اسے دنیا کے اُن تمام قانونی فورمز تک رسائی حاصل ہے جو آزادی، انسانی حقوق اور مظلوم قوموں اور انسانوں کی عزت و وقار پر یقین رکھتے ہیں، اور جو غلامی کے خلاف ہیں۔
ابھینندن مشرا:
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی فوجی اور انٹیلی جنس کارروائیوں نے بغاوت کے کمانڈ اور کنٹرول ڈھانچے کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے، جبکہ مسلسل حملے ظاہر کرتے ہیں کہ مسلح گروہوں کی آپریشنل صلاحیت اب بھی کافی مضبوط ہے۔ بی ایل ایف کے سربراہ کی حیثیت سے، آپ کے خیال میں پاکستان کی فوجی قیادت اس بغاوت کے بارے میں کیا غلط سمجھ رہی ہے، اور پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ آپ کی فورسز کو دوبارہ منظم کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کیا سمجھنے میں ناکام رہی ہے؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
یہ پاکستانی حکومت کی ایک بے بنیاد اور غیر معقول رائے ہے۔ یہ محض پاکستانی فوج کے گرے ہوئے حوصلے کو بڑھانے کی کوشش ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حال ہی میں میڈیا بریفنگ میں اعتراف کیا کہ انہوں نے ایک سال میں بلوچستان میں 31 ہزار سے زائد فوجی آپریشن کیے ہیں۔ یہ ان کی اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی کہ وہ میدانِ جنگ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پاکستانی فوج یہ نہیں سمجھتی کہ وہ ایک قومی آزادی کی تحریک اور امن و امان کی صورتِ حال کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہی ہے، اور بلوچ آزادی کے مسرمچاروں کی موجودگی اور مضبوطی کو نہیں سمجھ سکی۔ میں میڈیا پر سب کچھ نہیں کہہ سکتا، مگر مجھے امید ہے کہ وہ اپنی غلطیاں بار بار دہرائیں گے۔ بلوچ آزادی کی تحریک اور بلوچ قوم کی عوامی حمایت کو کوئی کمزور نہیں کر سکتا۔ ہمارے لوگ، ہمارے پہاڑ، ہمارے جنگلات اور بلوچ وطن کا ہر پتھر پاکستانی فوج کے لیے اجنبی ہے۔ اسی لیے پاکستانی فوج اب تک بلوچستان میں جگہوں کے نام بھی درست ادا نہیں کر سکتی۔آزادی کے خلاف اس ظالمانہ طرزِ عمل میں نہ صرف فوج کا حوصلہ اور جنگ کرنے کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے، بلکہ بلوچ آزادی کے مجاہدین کے ساتھ مسلسل جھڑپوں کے باعث وہ ذہنی دباؤ اور تھکن کا بھی شکار ہے۔جیسا کہ میں نے اپنی دنیا کے نام پیغام میں کہا تھاکہ پاکستانی فوج اپنی چھاؤنیوں میں محصور ہے اور اس کی نقل و حرکت محدود ہو چکی ہے۔ اس کے پاس اعلیٰ فوجی اور فضائی صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن اس کی فضائیہ معصوم بلوچ شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
ابھینندن مشرا:
جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے بار بار رپورٹ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے بلوچستان کے حوالے سے اٹھائے گئے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات نے بلوچ مزاحمت کی نوعیت بنیادی طور پر بدل دی ہے، خصوصاً نوجوان بلوچوں کو مسلح گروہوں کی طرف دھکیل کر؟ اور اگر پاکستانی ریاست جبری گمشدگیوں کا معتبر طور پر خاتمہ کرے اور لاپتہ افراد کا حساب دے، تو کیا اس سے مسلح جدوجہد کی حمایت کی سطح میں نمایاں تبدیلی آئے گی؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
جیسا کہ میں نے پہلے کہا، حراستی مراکز اور بلوچ قوم کے ماورائے عدالت قتل، خاص طور پر نوجوان اور تعلیم یافتہ یونیورسٹی اسکالرز، پاکستانی فوج کے بنیادی اہداف ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں سے، خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے، سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان ایک غیر قانونی اور غیر فطری ریاست ہے کیونکہ اس کا وجود ہی غیر جائز ہے۔ یہ کبھی بین الاقوامی قوانین کا احترام نہیں کرتی۔ چونکہ یہ فوج کے زیرِ انتظام ہے، اس لیے ہم ایک بار پھر اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں مداخلت کرے اور اسے ایک بین الاقوامی جنگی خطہ قرار دے۔جیسا کہ آپ نے نوجوان بلوچوں کے بارے میں کہا جو بلوچ آزادی کی تحریک میں شامل ہو رہے ہیں، ہر قوم کے ہر فرد کا یہ پیدائشی حق ہے کہ وہ قبضے اور نوآبادیاتی تسلط کے خلاف مزاحمت کرے۔ بلوچوں کی آزادی کی جنگ مقامی اور اندرونی ہے اور بلوچ قوم میں اسے جائزیت اور قبولیت حاصل ہے۔ اس لیے بلوچ آزادی کی تحریک کو بلوچ قوم، بلوچ دانشور طبقے، اور دنیا بھر میں اُن لوگوں کی جانب سے زبردست اخلاقی حمایت حاصل ہے جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر قوم کو اپنے وطن میں آزاد ہونے کا حق ہے۔
ابھینندن مشرا:
اگر اسلام آباد حقیقی سیاسی خودمختاری، وسائل کی آمدنی میں زیادہ حصہ، جبری گمشدگیوں کے خلاف ضمانتیں اور ایک بین الاقوامی نگرانی میں نافذ ہونے والا طریقۂ کار پیش کرے، تو کیا آپ پاکستانی انخلا سے پہلے مذاکرات میں شامل ہوں گے، یا اب صرف آزادی ہی قابلِ قبول نتیجہ ہے؟
اگر اسلام آباد حقیقی سیاسی خودمختاری، وسائل کی آمدنی میں زیادہ حصہ، جبری گمشدگیوں کے خلاف ضمانتیں اور ایک بین الاقوامی نگرانی میں نافذ ہونے والا طریقۂ کار پیش کرے، تو کیا آپ پاکستانی انخلا سے پہلے مذاکرات میں شامل ہوں گے، یا اب صرف آزادی ہی قابلِ قبول نتیجہ ہے؟
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ :
ہم اسلام آباد سے صرف ایک شرط پر بات کر سکتے ہیں: بین الاقوامی طاقتوں کی موجودگی میں، ہم پاکستانی فوج کو بلوچستان سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کریں گے، کیونکہ پاکستانی آئین خود ایک مردہ گھوڑا بن چکا ہے۔
پاکستانی آئین نہ فوج، نہ عدلیہ، نہ پارلیمنٹ اور نہ انتظامیہ سے خود کو بچا سکتا ہے، اور کسی حد تک بالادست پنجابی اشرافیہ کے اُس حصے سے بھی نہیں جو گزشتہ 79 برسوں سے وہی جرائم کر رہی ہے جو پاکستانی فوج بلوچستان میں کر رہی ہے۔بلوچ کسی بھی قسم کی رعایت قبول نہیں کرتے؛ بلوچ قوم کا مقصد ایک خودمختار اور آزاد بلوچستان ہے۔ اب آزادی ہی واحد قابلِ قبول حل ہے۔
٭٭٭
نوٹ: اصل انٹرویو درج ذیل لنک میں دستیاب ہے :