عراقی حکومت نے مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنے کی 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن دے دی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر قاسم الاعرجی نے اعلان کیا ہے کہ 30 ستمبر کو بین الاقوامی اتحاد کے انخلا کے بعد حکومت مسلح گروہوں کے پاس موجود ہتھیار مرحلہ وار اپنے کنٹرول میں لینے کا عمل شروع کرے گی۔

انھوں نے اس اقدام کو عراق کے لیے ایک حکمتِ عملی پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اسے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے عملی شکل دی جائے گی۔‘

قاسم الاعرجی نے اتوار کو عراقی سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ ’حکومت سیاسی جماعتوں اور پاپولر موبلائزیشن فورسز (الحشد الشعبی) کے یونٹس کے درمیان تعلقات ختم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے، جبکہ اس حوالے سے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔‘

ان کے مطابق ’ان گروہوں کے ہتھیار حکومت کے زیرِ استعمال ہوں گے اور انھیں کسی غیر ملکی فریق کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’تمام سیاسی دھارے اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ اور امن سے متعلق فیصلے کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔‘

ایران نواز بعض مسلح گروہوں، جن میں کتائب حزب اللہ بھی شامل ہے، نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ ان گروہوں نے ہتھیار ڈالنے کو امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلا سے مشروط کیا ہے۔ انھوں نے شمالی عراق سے ترک افواج کے انخلا اور پیشمرگہ فورسز کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی پیشگی شرط کے طور پر کیا ہے۔

عراق کے قومی سلامتی کے مشیر نے زور دے کر کہا کہ ’حکومت کے لیے فوجی محاذ آرائی ایک ’ریڈ لائن‘ ہے، تاہم بغداد پاپولر موبلائزیشن فورسز کے جنگجوؤں کے حقوق کی ضمانت دے گا۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article