بلوچستان کی شاہراہیں سفر کے قابل نہیں ، روزانہ 50 ساٹھ لوگ مارے جارہے ہیں،جمال شاہ کاکڑ ،محمود اچکزئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے قومی اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کو درپیش سفری مشکلات اور کراچی میں پشتون کمیونٹی کو پیش آنے والے مسائل پر حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کرائی۔

جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ بہت تکلیف میں رہتے ہیں، کراچی جانے والی شاہراہ تقریبا سفر کے قابل نہیں رہی، جبکہ راستے میں ہونے والی روڈ ڈکیتیوں نے بھی مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے راستے، خصوصا سکھر والے روٹ پر سفر کرنے والے لوگوں کو سندھ پولیس کی جانب سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ سے اپیل کی کہ سکھر کے راستے پر سندھ پولیس کو لگام دی جائے تاکہ بلوچستان سے سندھ اور کراچی جانے والے عوام کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پی آئی اے اور نجی ایئرلائنز کے کرائے میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے اور چند ہزار روپے کے ٹکٹس بھی بڑے پیمانے پر لاکھوں روپے میں بک رہے ہیں، جس کے باعث عام شہری کے لیے فضائی سفر انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ ماضی میں کوئٹہ سے تقریبا دس ٹرینیں روزانہ چلا کرتی تھیں، جو غریب عوام کے لیے سفر کا اہم ذریعہ تھیں، تاہم اب صرف ایک دو ٹرینیں رہ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بولان میل اور جعفر ایکسپریس بھی بند کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عوام کی سفری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بولان میل اور جعفر ایکسپریس کو روزانہ کی بنیاد پر بحال کیا جائے۔

دوسری جانب پاکستان کے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بنیادی طور پہ پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے ایک دو دن رکھ لیں سارے لوگ بولنا چاہتے ہیں، روزانہ کم سے کم پچاس ساٹھ آدمی قتل ہوتے ہیں سب بولیں گے تو شاید کوئی راستہ نکل آئے، بلوچستان میں روزانہ پچاس ساٹھ لوگ مارے جارہے ہیں ،دہشت گردی سمیت دیگر مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں ایوان میں کم از کم دوروز تک بلوچستان کی صورتحال پر بحث کرائی جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article