کوئٹہ : بولان میڈیکل کالج کے طلبہ کا اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کالج کے طلبہ نے اپنے مطالبات، بنیادی تعلیمی حقوق اور ادارے کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے پُرامن احتجاج کیا۔

طلبہ نے مطالبہ کیا کہ 19 نومبر 2025 کو جاری کیے گئے دستخط شدہ ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔

طلبہ کے مطابق ایکشن پلان جاری ہوئے تقریباً نو ماہ گزر چکے ہیں، تاہم اس پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

طلبہ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) رجسٹریشن فیس کی مد میں وصول کیے گئے 8 ہزار روپے کے معاملے کو بھی شفاف بنانے کا مطالبہ کیا۔

ان کا مؤقف ہے کہ فیس پہلے ہی جمع کرائی جاچکی ہے، تاہم اب دوبارہ فیس جمع کرانے کو کہا جا رہا ہے، جس کی مکمل وضاحت اور حساب طلبہ کے سامنے رکھا جائے۔

احتجاج کرنے والے طلبہ نے کالج میں طلبہ کی مبینہ پروفائلنگ اور نگرانی کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے میں اس نوعیت کی سرگرمیاں طلبہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور تعلیمی ماحول کو متاثر کرتی ہیں۔

طلبہ نے ہراسگی کے واقعات کا فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ نوٹس لینے اور انہیں محفوظ و باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ طلبہ نے ویلکم پارٹی کے انعقاد کے لیے کالج کا ہال فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مثبت اور تعمیری طلبہ سرگرمیوں کے لیے ادارے کی جانب سے سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کسی ذاتی مفاد یا ضد کے لیے نہیں بلکہ بنیادی حقوق، شفافیت، عزتِ نفس اور بہتر تعلیمی ماحول کے حصول کے لیے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہیں وعدوں کے بجائے عملی اقدامات، دباؤ کے بجائے شفافیت اور ہراسگی کے بجائے تحفظ چاہیے، جبکہ طلبہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article