بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما سمی دین بلوچ نے ضلع سوراب میں ملکی و سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے پاکستانی فوج کی فضائی اور کواڈ کاپٹر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور متاثرہ علاقے کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سمی دین بلوچ نے کہ ضلع سوراب میں شہریوں پر فضائی اور کواڈ کاپٹر حملوں کے حوالے سے سوشل میڈیا اور بلوچستان کے آن لائن میڈیا آئوٹ لیٹس پر سامنے آنے والی مختلف رپورٹس انتہائی تشویشناک ہیں۔ علاقے سے سامنے آنے والی تصاویر انتہائی ہولناک ہیں، جن میں ملبے تلے دبے ہوئے خواتین، مرد اور بچے، مسخ شدہ لاشیں اور خون میں لت پت افراد دکھائی دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گویا جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، فورتھ شیڈول کے ذریعے اختلافِ رائے کو جرم بنانا اور اجتماعی سزا ہی کافی نہیں تھی کہ اب حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ بظاہر شہری آبادی کے خلاف فضائی اور کواڈ کاپٹر حملوں پر اتر آئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ معصوم جانوں کے ضیاع پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ان حملوں میں مارے گئے بچوں کی تصاویر حکام کے لیے تشویش اور شرمندگی کا مقام ہونی چاہئیں۔ کوئی بھی معصوم بچوں کے قتل کو قبول نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں مارے گئے شہریوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی 5 میتوں کے ساتھ مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق دو لاشیں شدید مسخ شدہ تھیں جنہیں تدفین کے لیے لے جایا گیا۔ کم از کم 20 افراد زخمی ہیں جبکہ کچھ لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
سمی بلوچ نے مزید کہا کہ میں اس واقعے کی مکمل، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہوں۔ میں پاکستان کی سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپس سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ خاموشی کو بلوچستان میں اس طرح کے تشدد کو نارمل بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔”