ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا عالمی برادری اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے نام اہم پیغام

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) کے سربراہ اور بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے عالمی برادری، بین الاقوامی حکومتوں، سرمایہ کاروں اور بلوچستان میں دلچسپی رکھنے والے تمام دھڑوں کے نام ایک اہم انگریزی پیغام جاری کیا ہے۔

ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ کے پیغام کا مکمل اور باضابطہ اردو ترجمہ ذیل میں پیش ہے:

"میں یہ پیغام عالمی برادری، حکومتوں، سرمایہ کاروں اور ان تمام لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہوں جو بلوچستان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سب سے پہلے، میں بلوچ لبریشن موومنٹ کے ان تمام شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بلوچ آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ میں ان آزادی کے جنگجوئوں (فریڈم فائٹرز) کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو پاکستان کی ایک ظالم، غیر اخلاقی اور جابر ریاست و فوج کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔

آج، آزادی کے سرمچاروں نے پاکستانی فوج پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے اور انہیں ان کی چھائونیوں (کینٹونمنٹس) تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے بڑی حد تک فوج کی لاجسٹک سپلائی لائنز کو منقطع کر دیا ہے اور غاصب فورسز کے حوصلے بھی متاثر کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلکار فورسز چھوڑ کر جا رہے ہیں اور متعدد افراد نے بلوچ جنگی زون میں ڈیوٹی دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ کینٹونمنٹس کے اندر بعض اہلکار خودکشیاں کر رہے ہیں۔

اس تناظر میں، میں ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں جنہوں نے بلوچ وطن میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ میں پہلے بھی ان اقوام پر واضح کر چکا ہوں جنہوں نے بلوچ قوم کی رضامندی کے بغیر بلوچستان میں سرمایہ کاری کی ہے یا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، کہ وہ اپنے سرمائے سے ہاتھ دھونے کے خطرے سے دوچار ہیں اور ان کی سرمایہ کاری بالآخر ضائع ہو سکتی ہے۔

میں ایک بار پھر چینی، کینیڈین، آسٹریائی، امریکی، مغربی ایشیائی سرمایہ کاروں، یورپی ممالک اور بالخصوص ‘بارک گولڈ’ (Barrick Gold) پر زور دیتا ہوں کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاہدوں اور سرمایہ کاری پر نظرِ ثانی کریں، کیونکہ پاکستان نے بلوچ قوم کو غلام بنا رکھا ہے اور بلوچ اپنی چھینی ہوئی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اگر ممالک اور سرمایہ کار بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں بلوچ عوام کو آگاہ کرنا ہوگا اور بلوچ قوم کی رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔

ہم اقوامِ متحدہ (UN) اور اس کی سلامتی کونسل (Security Council) سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کی نازک صورتِ حال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور تیز تر ہوتی ہوئی بلوچ نسل کشی کا باریک بینی سے جائزہ لیں، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

براہِ کرم اس پیغام کو یا تو ایک مظلوم قوم کی التجا کے طور پر دیکھیں یا پھر جنگ زدہ بلوچستان کی طرف سے آنے والی ایک تنبیہ کے طور پر سمجھیں۔

موجودہ سیاسی نمائندوں پر بالکل اعتبار نہ کریں جو پاکستانی فوج کے ساتھ مکمل طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اس موجودہ تنازع سے فائدے اٹھا رہے ہیں۔ انہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں اور اقدامات کو سپورٹ اور جواز فراہم کرنے کے لیے اسمبلیوں اور کابیناؤں میں بٹھایا گیا ہے۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پاکستانی فوج ایک طاقتور عسکری ادارہ ہے اور بلوچستان میں اس کے آپریشنز کے بلوچ عوام کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر (DG ISPR) نے کہا تھا کہ فوج نے اس سال 31,000 آپریشنز کیے ہیں، جو کہ روزانہ تقریباً 150 آپریشنز بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں غیر ملکی سرمایہ کار، کمپنیاں اور حکام ایسی جگہ اپنے عملے اور سرمایہ کاری کے تحفظ کا یقین کیسے رکھ سکتے ہیں؟

ہم ان ممالک اور کمپنیوں کو بھی سراہتے ہیں جنہوں نے بلوچستان میں اپنی سرمایہ کاری کو پہلے ہی روک رکھا ہے۔

ہمارا پیغام بالکل واضح ہے: بلوچستان میں کوئی بھی سرمایہ کاری بلوچ قوم کی مرضی، حقوق اور رضامندی کے بغیر پائیدار نہیں ہو سکتی۔”

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article