اگست کے مہینے میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر پاکستان کی عسکری حکام کی ہدایت پر بلوچستان اور پاکستان کی حکومتوں نے نوشکی میں بینکنگ سسٹم اور جعفر ایکسپریس کو معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ضلع نوشکی میں عسکری حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث 5 سے 31 اگست تک بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی سرگرمیاں معطل رکھنے ا علان کیا ہے ۔
5 سے 31 اگست تک بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی خدمات معطل رہنے سے سرکاری ملازمین، پنشنرز، تاجروں، طلبہ اور عام شہریوں کو مالی لین دین میں مشکلات کا سامنا ہے۔
شہریوں کے مطابق بینکوں اور اے ٹی ایمز کی بندش سے تنخواہوں، پنشن، چیک کلیئرنس، نقد رقم کے حصول اور یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی متاثر ہوئی ہے، جبکہ طلبہ کو داخلہ اور امتحانی فیس جمع کرانے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دوسری جانب نیشنل بینک آف پاکستان اور میزان بینک کی برانچیں بھی 31 جنوری کو مسلح افراد کی جانب سے عمارتیں نذرِ آتش کیے جانے کے بعد گزشتہ آٹھ ماہ سے بند ہیں۔ دیگر کمرشل بینکوں کی حالیہ بندش کے بعد ضلع نوشکی میں بینکاری کی سہولت تقریباً مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے محدود اوقات میں محفوظ طریقے سے بینکنگ سروسز بحال کی جائیں، جبکہ نیشنل بینک کی طویل عرصے سے بند برانچ کو ترجیحی بنیادوں پر فعال کیا جائے تاکہ شہریوں کو درپیش مالی مشکلات میں کمی لائی جاسکے۔
دوسری جانب جعفر ایکسپریس کی سروس 11 اگست کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
محکمہ ریلوے کے جاری بیان میں عوام الناس کو اطلاع دی گئی ہے کہ کل مورخہ 11 اگست 2026 کو جعفر ایکسپریس کی نہ آمد اور نہ ہی روانگی ہوگی۔