بلوچستان اور کراچی سے پاکستانی فوج اور حساس ایجنسیوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جہاں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں سے مزید 4 بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مستونگ سے جبری طور پر لاپتہ کی گئی دو بلوچ خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے 3 افراد باحفاظت بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ کوائف کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر سے 1 اگست 2026 کو رات 1:30 بجے حاجی شاہ علی ٹاؤن، شرافی ملیر کے مقام سے رینجرز اور سی ٹی ڈی (CTD) نے مشترکہ چھاپے کے دوران 26 سالہ مزدور اسامہ ولد صادق (سکونتی حاجی شاہ علی ٹاؤن، شرافی ملیر) کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
اسی روز اور اسی مقام سے یعنی 1 اگست 2026 کو رات 1:30 بجے حاجی شاہ علی ٹاؤن، شرافی ملیر، کراچی سے رینجرز اور سی ٹی ڈی نے ایک اور 25 سالہ مزدور نیاز ولد رشید (سکونتی حاجی شاہ علی ٹاؤن، شرافی ملیر) کو بھی گھر پر چھاپے کے دوران اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے کلی الماس، ایئرپورٹ روڈ سے 4 اگست 2026 کو صبح 4:00 بجے حساس اداروں (ISI/CTD/MI) نے کارروائی کرتے ہوئے 17 سالہ طالب علم اسفند بلوچ ولد دوست محمد بلوچ (سکونتی کلی الماس، ایئرپورٹ روڈ، کوئٹہ) کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
کوئٹہ ہی کے ایک اور واقعے میں 10 اگست 2024 کو رات 1:00 بجے قمبرانی روڈ، کشمیر آباد کے مقام سے سی ٹی ڈی (CTD) نے 27 سالہ طالب علم واجد بلوچ ولد محمد انور (سکونتی سبزل روڈ، کوئٹہ) کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔
دوسری جانب ضلع مستونگ کے علاقے کلی کونگڑھ سے 21 جولائی 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے تین افراد 6 اگست 2026 کو باحفاظت بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بازیاب ہونے والوں میں محمد عارف ولد امام بخش (سکونتی کلی کونگڑھ، مستونگ) شامل ہیں، جنہیں 21 جولائی کو لاپتہ کیا گیا تھا اور وہ 6 اگست کو مستونگ میں باحفاظت آزاد ہوئے۔
اسی طرح ان کے ساتھ جبری طور پر لاپتہ کی جانے والی بلوچ خاتون بی بی رافعہ بنت امام بخش (سکونتی کلی کونگڑھ، مستونگ) بھی ایک ہفتے سے زائد حراست میں رہنے کے بعد 6 اگست 2026 کو باحفاظت اپنے گھر پہنچ گئیں۔
مستونگ ہی سے لاپتہ کی جانے والی دوسری بلوچ خاتون بی بی ندا بنت سراج احمد (سکونتی کلی کونگڑھ، مستونگ) بھی 6 اگست 2026 کو باحفاظت آزاد ہو کر اپنے اہلخانہ سے مل گئی ہیں۔
حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے خواتین سمیت شہریوں کی بازیابی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم دیگر تمام لاپتہ افراد کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ دہرایا ہے۔