وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے جبری لاپتہ نیچاری قبیلے کی خواتین کی بازیابی کے بعد جمعہ خان نیچاری سے ملاقات کی۔
اس موقع پر انہوں نے خواتین کی بازیابی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان خواتین کی ملکی اداروں کے ہاتھوں مبینہ جبری گمشدگی آئین و قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس لیے واقعے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ نیچاری قبیلے کی خواتین کی جبری گمشدگی کے معاملے سے وزیرِ داخلہ کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ان کے بنیادی اور آئینی حقوق سے محروم کرنا ایک سنگین معاملہ ہے، جس کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، خواتین کو حراست میں لیے جانے اور ان کی جبری گمشدگی کے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے، اور اگر کسی فرد یا ادارے کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
نصراللہ بلوچ نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف، قانونی تحفظ اور مؤثر داد رسی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔