بلوچستان اور کراچی کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فوج ، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کی جانب سے ماورائے آئین و قانون جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل تیز ہوتا جا رہا ہے۔
تازہ ترین رپورٹس اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ کوائف کے مطابق مزید 11 نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ گوادر کے علاقے جیونی سے ایک ماہ قبل لاپتہ کیے گئے 2 بزرگ شہری بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق لاپتہ کیے گئے افراد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔یاسر ولد حاجی نیک سال (عمر: 18 سال، پیشہ: مزدور) — 6 اگست 2026 کو صبح 3:30 بجے کور ِ پشت بٹ، بلیدہ (ضلع کیچ) سے حراست میں لیے گئے۔
2۔شے حق ولد بشیر احمد (عمر: 20 سال، پیشہ: طالب علم) — 6 اگست 2026 کو صبح 3:30 بجے دمبانی بٹ، بلیدہ (ضلع کیچ) سے لاپتہ کیے گئے۔
3۔ سیف اللہ ولد ظهور احمد (عمر: 24 سال، پیشہ: مزدور) — 6 اگست 2026 کو صبح 3:30 بجے کور ِ پشت بٹ، بلیدہ (ضلع کیچ) سے اٹھائے گئے۔
4۔عامر ولد عبد الوحید (عمر: 28 سال، پیشہ: دکاندار) — 5 اگست 2026 کو رات 8:00 بجے ٹیکری گوٹھ، ماڑی پور (کراچی) سے ان کے گھر سے حراست میں لیے گئے۔
5۔صابر ولد عزیز (عمر: 28 سال، پیشہ: مزدور) — 6 اگست 2026 کو رات 8:30 بجے ماڑی پور (کراچی) سے لاپتہ کیے گئے۔
6۔عبد العزیز ولد نور داد (عمر: 30 سال، پیشہ: مزدور) — 7 اگست 2026 کو رات 2:00 بجے ماڑی پور (کراچی) سے گھر پر چھاپے کے دوران اٹھائے گئے۔
7۔مزمل ولد عبد المجید (عمر: 19 سال، پیشہ: دکاندار) — 28 جولائی 2026 کو صبح 4:00 بجے موسیٰ کالونی، سریاب (کوئٹہ) سے حراست میں لیے گئے۔
8۔جلیل ولد سلیم (عمر: 17 سال، پیشہ: دکاندار) — 7 اگست 2026 کو صبح 6:00 بجے موسیٰ کالونی، سریاب (کوئٹہ) سے لاپتہ کیے گئے۔
9۔صفی اللہ بلوچ ولد مہرو اللہ بلوچ (عمر: 14 سال، پیشہ: طالب علم) — 24 جولائی 2026 کو صبح 5:00 بجے لوہار کاریز، سریاب روڈ (کوئٹہ) سے حراست میں لیے گئے۔
10۔مدثر بلوچ ولد شیر دل بلوچ (عمر: 14 سال، پیشہ: طالب علم) — 24 جولائی 2026 کو صبح 5:00 بجے لوہار کاریز، سریاب روڈ (کوئٹہ) سے اٹھائے گئے۔
11۔نجیب اللہ بلوچ ولد سرور بلوچ (عمر: 19 سال، پیشہ: مزدور) — 7 جولائی 2026 کو رات 2:00 بجے کلی برازئی (کوئٹہ) سے لاپتہ کیے گئے۔
دوسری جانب، گوادر کے علاقے پانوان جیونی سے 11 جولائی 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے دو بزرگ شہری 7 اگست 2026 کو باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بازیاب ہونے والے افراد میں محمد بلوچ ولد حبش اور اعظم بلوچ ولد احمد شامل ہیں۔ ان کی محفوظ بازیابی پر اہلخانہ نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
عوامی و سیاسی حلقوں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ماورائے عدالت اور غیر انسانی جبری گمشدگیوں کا بنیادی ہدف طالب علم اور کمسن نوجوان ہیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں خاندان شدید ذہنی اذیت اور اجتماعی سزا کا شکار ہیں۔
تنظیموں کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوجی آپریشنز اور جعلی مقابلوں میں جن مسلح افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا جاتا ہے، ان میں سے اکثر وہی جبری طور پر لاپتہ افراد ہوتے ہیں جنہیں دورانِ حراست قتل کر کے جعلی مقابلوں کا نام دیا جاتا ہے۔
اس صورتحال نے بلوچستان میں ایک شدید انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جبکہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس پر مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔