کوئٹہ: پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار3 بلوچ خواتین بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے کلی اعلیٰ آباد شیخ عمر سے پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے جانے والے تینوں بلوچ خواتین رافیعہ، تانیہ اور جویریہ کی بازیابی عمل میں آ گئی ہے اور وہ باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اس کی تصدی کردی ہے ۔

تانیہ دختر جمعہ خان (سکونت: کلی اعلیٰ آباد شیخ عمر، کوئٹہ – مستقل پتہ: قلات)،جویریہ دختر خیر اللہ (سکونت: کلی اعلیٰ آباد شیخ عمر، کوئٹہ – مستقل پتہ: قلات) اور رافیعہ دختر سعد اللہ (سکونت: کلی اعلیٰ آباد شیخ عمر، کوئٹہ – مستقل پتہ: قلات) کو 30 جولائی 2026 کو پاکستانی فوج کی جانب سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ان کی بازیابی کے لیے سخت عوامی و سیاسی ردِعمل سامنے آیا۔

واقعے کے فوراً بعد انسانی حقوق کی تنظیم ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز’ (VBMP) نے ان خواتین کے تمام کوائف لاپتہ افراد کے سرکاری کمیشن اور بلوچستان حکومت کے سپرد کر کے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

بی این پی (مینگل) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی اور چادر و چار دیواری کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور کوئٹہ سمیت متعدد علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق شدید عوامی و سیاسی دباؤ کے بعد تینوں خواتین کو 6 اگست 2026 کو کوئٹہ میں ہی باحفاظت فوج کی تحویل سے رہائی ملی ہے۔

یاد رہے کہ ابھی بھی متعدد بلوچ خواتین پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہیں۔ جن کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article