یمن کے وسطی علاقے میں حوثیوں کے سرکاری فوج کے کیمپس پر حملوں میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 31 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یمن کے صوبہ مأرب کے علاقے الرویک اور صوبہ حضرموت کے علاقے العبر میں ایمرجنسی فورسز کے زیرِ انتظام متعدد فوجی کیمپوں کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیرِ صحت قاسم بحیبہ نے اس ’عیارانہ‘ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امن و امان اور استحکام کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی کوئی تعداد نہیں بتائی۔
ایران کے حمایت یافتہ اور یمن کے شمال مغربی حصے کے بڑے علاقے پر قابض حوثیوں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں کا ہدف ’سعودی فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتیاں‘ تھیں، جو بقول ان کے ایک فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے تھے۔
یمن میں خانہ جنگی کے دوران سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک اتحاد حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔
فوری طور پر اس معاملے پر نہ تو سعودی اتحاد اور نہ ہی سعودی حکومت کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
یمن میں امریکی مشن نے حوثیوں کے حملوں کو ’بزدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’یمنی عوام کے خلاف ان کی دہشت گردی کی ایک اور مثال‘ ہے۔