ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں اسما جتک کے والد کا قتل بلوچستان میں جاری جبر کا تسلسل ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے شہر خضدار میں ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں اسما جتک کے والد، ریٹائرڈ استاد عنایت اللہ، کا قتل بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اور بربریت کے تسلسل کی ایک اور المناک مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسما جتک کو 6 فروری 2025 کو سردار ثنا اللہ زہری کے قریبی ساتھی اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرکردہ کارندہ ظہور جمالزئی نے زبردستی اغوا کی تھی، تاہم ان کے اہلِ خانہ اور بلوچ عوام کی مزاحمت کے باعث بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد سے اسما جتک مسلسل یہ خدشہ ظاہر کرتی رہی ہیں کہ ڈیتھ اسکواڈ ان کے خاندان کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اور وہ متعدد بار حکومت سے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ عنایت اللہ کی شہادت اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کو کھلی چھوٹ حاصل ہے اور وہ سرِعام بلوچ عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ بلوچ گھرانوں کی عزت و حرمت کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔ ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں ایسے جرائم پیشہ عناصر کو منظم، مسلح اور سرپرستی فراہم کرتی رہی ہے، اور انہی عناصر پر مشتمل مسلح دستے تشکیل دیے گئے ہیں جو ریاستی پشت پناہی میں بلوچ عوام کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچ نسل کشی اور بلوچ اقدار پر جاری حملوں کے خلاف متحد ہو کر اپنی اجتماعی مزاحمت کو منظم کرے۔ اگر آج بھی اجتماعی مزاحمت کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے یہ ڈیتھ اسکواڈ بلوچ معاشرے کے لیے مزید سنگین خطرہ بنتے جائیں گے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article