یمنی حوثیوں نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے اور ساتھ ہی انھوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔‘
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق گزشتہ ماہ کشیدگی میں اضافے کے بعد سے یہ آٹھواں اور نواں سعودی آئل ٹینکر ہے جسے گروپ نے نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب سعودی حکام نے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
یحییٰ سریع نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ ’حوثیوں نے شمالی بحیرۂ احمر میں ینبع کے ساحل کے قریب سعودی آئل ٹینکر وفا کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔‘
ایک اور بیان میں انھوں نے کہا کہ ’حوثیوں نے خلیجِ عدن میں سعودی آئل ٹینکر ڈیزی پر بھی ایک بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔‘
حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ ’وہ شمالی بحیرۂ احمر میں اپنے حملے مزید تیز کریں گے۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب نے ان حملوں کے بعد اپنے آئل ٹینکروں کا راستہ تبدیل کرتے ہوئے جنوبی روٹ کے بجائے شمالی بحیرۂ احمر کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع سعودی بندرگاہ ینبع، سعودی تیل کی برآمدات کا اہم ترین مرکز بن گئی ہے، جبکہ باب المندب عالمی منڈیوں تک خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔