بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے لکپاس کے مقام سے تین بلوچ خواتین بی بی رافیعہ، تانیہ اور جویریہ کی پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ان خواتین کو ایک ہفتے کے اندر بحفاظت رہا نہ کیا گیا تو بی این پی پورے بلوچستان میں شدید احتجاج کی کال دے گی۔
پریس کانفرنس کے موقع پر بی این پی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مالک نصیر شاہوانی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی سیکرٹری فائنانس اختر حسین لانگو، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین غلام نبی مری، چیئرمین واحد بلوچ، حاجی باسط لہڑی، میر مقبول لہڑی، شمائلہ اسماعیل، ضلع کوئٹہ کے آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، ڈپٹی آرگنائزر ڈاکٹر جاوید بلوچ، حاجی صادق لانگو، میر اسماعیل منگل اور وائس فار مسنگ پرسنز کے نصر اللہ بلوچ سمیت دیگر اراکین بھی موجود تھے۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ دو روز قبل لکپاس کے مقام پر پارٹی کے سینئر رہنما جمعہ خان کی اہلیہ، بیٹی اور ایک اور خاتون کو فورسز نے بغیر کسی وارنٹ کے حراست میں لیا، جو کہ ایک انتہائی شرمناک اور غیر قانونی فعل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران بلوچستان سے 108 سے زائد خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان میں نفرت روز بروز بڑھ رہی ہے اور حالات کو ایسی نہج پر پہنچا دیا گیا ہے جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے کٹھ پتلی اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی یہ تو تسلیم کر رہے ہیں کہ نظام درہم برہم ہو چکا ہے، لیکن وہ اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔”
بی این پی کے رہنما نے واضح کیا کہ بلوچستان حکومت کے اقدامات کا مقصد صرف حالات کو مزید خراب کرنا ہے۔ اس وقت صوبے میں شاہراہیں مکمل طور پر بند ہیں اور حکومت کی رٹ صرف ریڈ زون تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی کارکن جمعہ خان کو مسلسل دھمکی آمیز کالیں موصول ہو رہی ہیں، لیکن بی این پی ان مشکل حالات میں اپنے کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
پریس کانفرنس میں قلات ڈویژن، وڈھ اور مستونگ اضلاع سے متعلق نئے اضلاع کے نوٹیفکیشن کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ستر سال قبل یہ کہہ کر ‘ون یونٹ’ قائم کیا گیا تھا کہ زیادہ صوبے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں، جس کی ہم نے مخالفت کی تھی۔ لیکن آج کہا جا رہا ہے کہ استحکام کا واحد طریقہ مزید صوبے بنانا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے اس قسم کے سیاسی تجربات کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی، سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بی این پی کا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل طاقت کا استعمال نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے، لیکن بدقسمتی سے اب تک اس سوچ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ انہوں نے ایک بار پھر عزم دہرایا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور شناخت کا تحفظ بی این پی کی سیاسی ذمہ داری ہے جس سے وہ کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔