بی ایل اے سربراہ بشیر زیب کا نیا کتابچہ "مڈی” جاری، گوریلہ جنگ اور عسکری وسائل کے انتظام کے لیے سخت قوانین کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کمانڈر انچیف بشیر زیب بلوچ کا تحریر کردہ ایک نیا تنظیمی و عسکری کتابچہ بعنوان "مڈی” جاری کر دیا گیا ہے۔ جون 2026 میں بی ایل اے کے نشریاتی ادارے "ہکّل پبلیکیشنز” کی جانب سے شائع ہونے والے اس کتابچے میں تنظیم کے مستقبل کے جنگی لائحہ عمل، اسلحہ و بارود کی سائنسی مینیجمنٹ اور سخت تنظیمی نظم و ضبط کے لیے تفصیلی قوانین وضع کیے گئے ہیں۔

کتابچے کو تین اہم حصوں "مڈی کی معیشت”، "مڈی کا ضابطہ اخلاق” اور "نفسیات” میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں روایتی مسلح مزاحمت کو جدید گوریلہ جنگ میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

کتابچے کے مطابق، بی ایل اے کے عسکری، سیاسی اور لاجسٹک ڈھانچے میں ہر قسم کے اسلحہ جات، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور مواصلاتی آلات کو جامع طور پر "مڈی” کا عنوان دیا گیا ہے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ یہ وسائل محض مادی اوزار نہیں بلکہ قومی امانت ہیں۔

کتابچے میں عالمی عسکری تاریخ، ماؤزے تنگ کی "طویل المدتی جنگ پر”، ویتنامی جنرل وو نگوین گیاپ کی رسد مینیجمنٹ، اور آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) کے "کوارٹر ماسٹر جنرل کارپس” جیسے ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طویل جنگوں میں مادی کمی سے بچنے کے لیے سائنسی انتظام ناگزیر ہے۔

کتابچے کے دوسرے حصے میں مڈی کے حوالے سے سخت قوانین کا اعلان کیا گیا ہے جس میں تحت اندھا دھند فائرنگ کی سخت حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور "نپے تلے فائر” اور عسکری تحمل کو گوریلہ کی اصل طاقت قرار دیا گیا ہے۔

ہر عسکری کارروائی سے پہلے اور بعد میں بارود و گولیوں کا تحریری اندارج لازمی ہوگا۔ مزید برآں، ہر کیمپ کمانڈر مرکزی عسکری کمانڈ کو ہر تین ماہ بعد دستیاب جنگی اسٹاک اور اخراجات کا ریاضیاتی حساب دینے کا پابند ہوگا۔

کارروائیوں کے دوران دشمن سے چھینا گیا تمام عسکری سامان سو فیصد تنظیم کی اجتماعی اور قومی ملکیت ہوگا۔ کسی بھی فرد یا مقامی کمانڈر کو اسے ذاتی تحویل میں رکھنے کا حق نہیں ہوگا۔

انٹرنیٹ، سوشل میڈیا یا عام مجالس میں تنظیمی اسلحے کی تصاویر، ویڈیوز یا غیر ضروری نمائش پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ دشمن کے فضائی حملوں اور جاسوسی نیٹ ورکس سے بچا جا سکے۔

جدید دور کے تقاضوں کے تحت، مقامی مارکیٹوں یا مالِ غنیمت سے حاصل ہونے والے ہر نئے ہتھیار کا تیکنیکی معائنہ لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ دشمن کے خفیہ سراغ رساں اور لوکیشن ٹریکنگ آلات کا توڑ کیا جا سکے۔

لاپرواہی، چوری یا غیر ذمہ داری کی وجہ سے تنظیمی اسلحے کے ضیاع پر سخت ترین عدم برداشت کی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں عسکری عہدے سے مستقل برطرفی تک کی سزا شامل ہوسکتی ہے۔

کتابچے کے آخری حصے میں وسائل کے نفسیاتی پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

بشیر زیب بلوچ کا کہنا ہے کہ گوریلہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر لڑی جاتی ہے۔

ان کے مطابق، جب ایک گوریلہ دشمن کا اسلحہ چھین کر اسی کے خلاف استعمال کرتا ہے تو یہ دشمن کے سپاہی کے اندر ایک گہری نفسیاتی اور شناختی دراڑ پیدا کرتا ہے، جو اس کی عسکری برتری کو مفلوج کر دیتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مڈی کا اخلاقی استعمال اور عوام کی حمایت ہی کسی تحریک کی بقا کی اصل ضامن ہوتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article