پاکستان کے زیرِقبضہ کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کو پیش قدمی سے روکنے کے لیے پاکستانی فورسز کی جانب سے کی جانے والی شدید فائرنگ اور شیلنگ کے نتیجے میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔
گزشتہ دو روز کے دوران راولاکوٹ اور میرپور میں فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 36 سویلین افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 100 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ راولاکوٹ میں دو دنوں کے دوران 34 افراد ہلاک ہوئے، جن میں پیر کے روز 22 اور منگل کو مارچ کے شرکاء پر بلدیہ اڈہ، کھڑک روڈ اور ڈی چوک کے مقامات پر ہونے والی بلا اشتعال فائرنگ سے مزید 12 افراد شامل ہیں۔
دوسری جانب میرپور کے علاقے بن خرماں میں بھی احتجاجی مظاہرے پر فورسز کی فائرنگ سے 2 افراد کی جان چلی گئی ہے، جبکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہاں مجموعی طور پر 6 افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 5 جون سے اب تک اس جاری احتجاج کے دوران فورسز کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے سویلینز کی مجموعی تعداد 81 تک پہنچ چکی ہے۔
منگل کے روز وادی نیلم سے مظفرآباد کی طرف بڑھنے والے قافلے پر بھی فائرنگ کی گئی، جس میں متعدد مظاہرین سمیت عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر خواجہ مجتبیٰ بانڈے گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ اس شدید کشیدگی اور فورسز کی کارروائیوں کے خلاف کوٹلی، کھوئی رٹہ اور چڑھوئی میں بھی شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
اسی دوران پاکستان رائٹس موومنٹ کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو چند ساتھیوں کے ہمراہ اسلام آباد سے راولاکوٹ جاتے ہوئے پونچھ کے داخلی راستے ‘آزاد پتن’ پر پولیس نے ناکہ بندی کر کے روک دیا اور انہیں علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
فائرنگ کی زد میں آکر جان کی بازی ہارنے والے متعدد نوجوانوں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں جہاں ان کی تدفین کا عمل جاری ہے، جبکہ مواصلاتی تعطل اور کشیدگی کے باعث کچھ میتیں ورثاء تک پہنچانے میں تاحال شدید مشکلات کا سامنا ہے۔