پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں فوج کی نہتے مظاہرین پر فائرنگ و شیلنگ ، 21 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کےشہر راولاکوٹ میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کے لانگ مارچ کے دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں، فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تازہ ترین مصدقہ اطلاعات کے مطابق، راولاکوٹ میں پاکستانی فوج و دیگر فورسزکی نہتے مظاہرین پرفائرنگ اور شیلنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 21 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔

مقامی صحافی دانش ارشاد اور دیگر ذرائع کے مطابق، ہلاک ہونے والے 15 افراد کی ابتدائی طور پر شناخت کر لی گئی ہے جن میں عثمان نذیر (راولاکوٹ – جو جیک کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری کے بھائی بتائے جاتے ہیں)،محمد مزمل (علی سوجل)، ضرغام خلیل (دریک)، ٹھیکیدار نعیم بٹ (کوٹلی)، فدا حسین (گڑالہ)، فہیم افضل (چھوٹا گلہ)، کاشف یعقوب (چھوٹا گلہ)، ثاقب حنیف (ریڑھ بن)، ثاقب اسحاق (نمب گوارہ)، نثار (دھمن، پکھوناڑ)، اریل اصغر (تتہ پانی)، باسط شاہ (ہجیرہ)، عثمان گل (دریک)، جفیر پہلوان (تراڑکھل) اور ارسلان لطیف ڈار (حویلی)شامل ہیں۔

ان کے علاوہ دیگر 6 ہلاک افراد کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔ اس سے قبل مقامی صحافی حارث قدیر نے رپورٹ کیا تھا کہ کھائی گلہ سے آنے والے قافلے پر فورسز کی فائرنگ سے 4 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد تعداد پہلے 11 اور پھر 17 ہوئی تھی، جو اب بڑھ کر 21 ہو چکی ہے۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق کی گئی ہے، تاہم سرکاری سطح پر تاحال کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب میرپور میں بھی احتجاج کے دوران فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں ابتدائی دعووں کے مطابق 6 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی صحافی اجمل شاہین کے مطابق، اس وقت دو قافلے شہر میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ عید گاہ سے آنے والا مرکزی قافلہ چنار چوک میں موجود ہے جسے فورسز نے پیش قدمی سے روکنے کے لیے وہاں روک رکھا ہے۔ کھائی گلہ سے آنے والا قافلہ چاندنی چوک پہنچ چکا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق رات تقریباً آٹھ بجے شہر کی بجلی بھی بند کر دی گئی تھی اور مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ اور شیلنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب مظاہرین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ہسپتالوں پر فورسز نے قبضہ کر رکھا ہے۔

علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور حکام کی جانب سے جانی نقصان یا فائرنگ کی وجوہات پر تاحال کوئی باضابطہ یا حتمی بیان سامنے نہیں آیا۔ شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article