بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دھماکوں اور فائرنگ کے سنگین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں دھماکے کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہو گئے، جبکہ سبی کے علاقے ڈھاڈر میں ایک سرکاری دفتر کو نشانہ بنایا گیا اور دالبندین میں مسافر بسوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔
کوئٹہ میں پٹیل روڈ پر یاسین اسپتال کے سامنے ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں زبیر احمد ولد حاجی عبداللہ جان (سکنہ شالدرہ مدرسہ روڈ)، وزیر ولد سردار محمد (سکنہ مدرسہ روڈ)، عبدالرشید ولد حاجی غازی (سکنہ موسیٰ کالونی سریاب روڈ) اور ابرار ولد حافظ عبدالرزاق (سکنہ موسیٰ کالونی سریاب روڈ) شامل ہیں۔
زخمی افراد کا تعلق کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب سبی کے علاقے ڈھاڈر میں نامعلوم افراد محکمہ آبپاشی (ایری گیشن) کے دفتر پر دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق اتوار کو ڈھاڈر میں نامعلوم افراد نے ایری گیشن آفس پر دستی بم پھینکا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے عمارت کو معمولی نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس نے واقعے کے بعد مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔
ادھر دالبندین میں کوئٹہ سے آنے والی تین مسافر بسوں پر آر سی ڈی شاہراہ پر چارسار کے مقام پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں بسوں کے ٹائر برسٹ ہوگئے۔
پولیس کے مطابق مسلح افراد نے چارسار کے مقام پر بسوں کو روک کر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کا جائزہ لینے کے بعد واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کی تلاش کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں مسافر بسوں پر فائرنگ کے پے در پے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جن کا الزام پاکستان کی مقتدرہ اور حکومتِ بلوچستان کی جانب سے بلوچ آزادی پسندوں پر عائد کیا جا رہا ہے۔ تاہم دوسری جانب، بلوچستان کے آزادی پسند، سیاسی و سماجی حلقے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستانی مقتدرہ کا ایک پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔
ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی مقتدرہ بلوچستان میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے اس طرح کے پروپیگنڈے کی تشہیر کر رہی ہے۔