بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حالیہ صدی میں انسانی حقوق کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش ناک موضوع بن چکا ہے۔ اس صدی کے آغاز میں ریاستی عسکری اور خفیہ اداروں کی کارروائیاں زیادہ تر سیاسی کارکنوں تک محدود دکھائی دیتی تھیں، البتہ چند ایک واقعات ایسے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں خواتین اس ریاستی جبر کا شکار ہوئیں، جیسے کوہلو کی زرینہ مری، جو ایک اسکول ٹیچر تھیں، جنہیں ان کے کمسن بیٹے کے ساتھ جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جو ہنوز لاپتہ ہیں۔ علاوہ ازیں، کوئٹہ سے بانک حنیفہ بگٹی بھی اسی ریاستی جبر کا شکار ہوئیں۔ علاوہ ازیں، خواتین کی جبری گمشدگی کے چند مزید واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی عسکری اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں بلوچ خواتین اور کمسن بچوں کی مبینہ جبری گمشدگی کے واقعات تواتر کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ اس گھمبیر صورتحال نے بلوچستان بھر میں مزید تشویش پیدا کی ہے۔ بلوچستان کے اس المیے پر انسانی حقوق کے کارکنوں، قانونی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں نے کسی حد تک احتجاج بھی کیا ہے، لیکن یہ مسئلہ آج ایک بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں خطے میں رہنے والا ہر فرد خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔
بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ واقعہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کی ’’کلی کونگڑھ‘‘ میں ۲۱ جولائی ۲۰۲۶ کو پیش آیا، جہاں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ایک گھر پر دھاوا بول کر بی بی رافیہ دختر امام بخش، جن کی عمر تینتیس سال بتائی جاتی ہے، کو ان کے تین کمسن بچوں، بھائی محمد عارف اور بھانجی بی بی ندا، جن کی عمر ۱۸ سال ہے، اغوا کرکے لے گئے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد سے ان افراد کے بارے میں انہیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی۔
بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ مستونگ واقعہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں بلکہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے اس وسیع تر سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے بارے میں مقامی انسانی حقوق کے کارکنان، متاثرہ خاندان اور مختلف تنظیمیں مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ متعدد خاندان برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، متعدد متاثرین اپنے پیاروں کی راہ دیکھتے دیکھتے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں، لیکن جبر کی یہ پالیسی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی قانون کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی خواتین اور بچوں کو خصوصی طور پر تحفظ کے مستحق طبقات قرار دیا جاتا ہے۔ جب ایک ماں کی بات آ جاتی ہے تو صورتحال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے، کیونکہ ایک ماں کی گمشدگی صرف ایک فرد کی گمشدگی نہیں ہوتی بلکہ اس سے پورا خاندان، خصوصاً کمسن بچے، شدید نفسیاتی، معاشی اور سماجی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر خود شیر خوار یا کمسن بچوں کی آزادی بھی سلب کر لی جائے تو یہ معاملہ مزید سنگین نوعیت اختیار کر لیتا ہے، جو بلوچستان میں آج مزید سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔
بلوچستان میں خواتین اور بچوں سمیت جبری گمشدگی کے سامنے آنے والے واقعات نے انسانی حقوق کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ایسے معاملات میں ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کر کے فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے، اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی جائے، اور اسے تمام قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔
بلوچ وومن فورم کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جبری گمشدگی نہ صرف ایک فرد کے بنیادی حقوق سلب کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں خوف، عدم اعتماد اور قانون کی حکمرانی پر منفی اثرات بھی مرتب کرتی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ہر شخص کی آزادی، عزت اور جان کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی صورت میں کسی فرد کو قانون کے تحفظ سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ لیکن ہم گزشتہ دو دہائیوں سے ریاست کی ہٹ دھرمی دیکھ رہے ہیں، جہاں سالوں تک لوگوں کو گمنام عقوبت خانوں میں مقید رکھا جاتا ہے، پھر کسی کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوتی ہے، کسی کو لاوارث قبروں کی نذر کیا جاتا ہے، کوئی ذہنی طور پر مکمل مفلوج ہو کر باہر نکلتا ہے، یا پھر وہ ہزاروں افراد جو سالوں سے نہ جانے کس حال میں ہیں، کسی کو کوئی خبر نہیں۔ ایسی صورتحال میں انسانی حقوق کے اداروں کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں کہ وہ ہر فورم پر بلوچستان کے اس المیے کو روکنے میں کردار ادا کریں۔