بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں پاکستانی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی کو دیسی ساختہ بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔جبکہ نوشکی کے علاقے کچکی میں کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد نے این ٹرالر گاڑی کو نذر آتش کردیا۔
پنجگور میں دھماکے کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر تاحال اس واقعے کی تصدیق یا ہلاکتوں کی تعداد جاری نہیں کی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا انتہائی شدید نوعیت کا تھا، جس کے باعث گاڑی کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حملے میں جانی نقصان ہوا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ واقعے کی ذمہ داری بھی تاحال کسی نے باضابطہ طور پر قبول نہیں کی،
دوسری جانب نوشکی میں مسلح افراد نے ٹرالر گاڑی کو نذر آتش کردیا۔
نوشکی کے علاقے کچکی میں کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ پر مسلح افراد نے این ٹرالر گاڑی کو نذر آتش کردیا، جس سے ٹرک جل کر تباہ ہوگیا۔ مسلح افراد نے ڈرائیور اور کلینڈر کو چھوڑ دیا۔
یاد رہے کہ بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر معدنیات لے جانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جبکہ اس دوران مسلح افراد کی ناکہ بندی اور مذکورہ گاڑیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے والے پاکستانی فورسز کے اہلکار بھی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔