بلوچ وومن فورم نے اپنے ایک بیان میں مستونگ سے تعلق رکھنے والی فرسٹ ایئر کی 16 سالہ طالبہ رضوانہ کی جبری گمشدگی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ان کی گمشدگی ان بلوچ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں ایک اور اضافہ ہے جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، جن میں خدیجہ بلوچ، ماہ جبین بلوچ، نسرینہ بلوچ اور حبیبہ بلوچ شامل ہیں۔
تنظیم کے مطابق بلوچ خواتین اور لڑکیوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جبری گمشدگی اب بلوچ قوم کے خلاف خوف، ہراسانی اور اجتماعی سزا کا ایک دانستہ ہتھیار بن چکی ہے۔ خواتین اور یہاں تک کہ کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنانا حالات کی ایک خطرناک سنگینی (escalation) کو ظاہر کرتا ہے، جو انسانی وقار اور انصاف کے بنیادی ترین اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ خواتین کا مسلسل اغوا ایک استعماری حربہ ہے جس کا مقصد معاشروں کو خوفزدہ کرنا، سیاسی آوازوں کو خاموش کرنا اور ایک مظلوم قوم کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنا ہے۔ جب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو مقصد صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقصد پورے خاندان اور معاشروں میں خوف پھیلانا ہوتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ وومن فورم رضوانہ، خدیجہ بلوچ، ماہ جبین بلوچ، نسرینہ بلوچ، حبیبہ بلوچ اور تمام جبری طور پر لاپتہ کی گئی بلوچ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری اقدام اٹھائیں، آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب کریں۔ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کو معمول بنانے کا یہ سلسلہ اس سے پہلے کہ سزا سے استثنیٰ (impunity) کی وجہ سے مزید زندگیاں برباد ہو جائیں، اب بند ہونا چاہیے۔