بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کو معمول بنانا بند کیا جائے ،بلوچ وومن فورم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ وومن فورم نے اپنے ایک بیان میں مستونگ سے تعلق رکھنے والی فرسٹ ایئر کی 16 سالہ طالبہ رضوانہ کی جبری گمشدگی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ان کی گمشدگی ان بلوچ خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں ایک اور اضافہ ہے جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، جن میں خدیجہ بلوچ، ماہ جبین بلوچ، نسرینہ بلوچ اور حبیبہ بلوچ شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق بلوچ خواتین اور لڑکیوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جبری گمشدگی اب بلوچ قوم کے خلاف خوف، ہراسانی اور اجتماعی سزا کا ایک دانستہ ہتھیار بن چکی ہے۔ خواتین اور یہاں تک کہ کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنانا حالات کی ایک خطرناک سنگینی (escalation) کو ظاہر کرتا ہے، جو انسانی وقار اور انصاف کے بنیادی ترین اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ خواتین کا مسلسل اغوا ایک استعماری حربہ ہے جس کا مقصد معاشروں کو خوفزدہ کرنا، سیاسی آوازوں کو خاموش کرنا اور ایک مظلوم قوم کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنا ہے۔ جب خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو مقصد صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مقصد پورے خاندان اور معاشروں میں خوف پھیلانا ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ وومن فورم رضوانہ، خدیجہ بلوچ، ماہ جبین بلوچ، نسرینہ بلوچ، حبیبہ بلوچ اور تمام جبری طور پر لاپتہ کی گئی بلوچ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری اقدام اٹھائیں، آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب کریں۔ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کو معمول بنانے کا یہ سلسلہ اس سے پہلے کہ سزا سے استثنیٰ (impunity) کی وجہ سے مزید زندگیاں برباد ہو جائیں، اب بند ہونا چاہیے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article