بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سرگرم تنظیم ‘بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین پوسٹرز اور معلومات کے مطابق، ایک بار پھر ایک کم عمر بلوچ لڑکی سمیت دو افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خواتین اور طالبات کی اس طرح جبری گمشدگی پر بلوچستان کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد بلوچ خواتین کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں سے کئی تو بازیاب ہو گئیں لیکن متعدد تاحال فورسز کے زیرِ حراست ہیں جن کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر دستیاب نہیں ہے۔
بی وائی سی کے مطابق مستونگ کے علاقے کلی تیری سے تعلق رکھنے والی ۱۶ سالہ بلوچ طالبہ رضوانہ دختر گل جان کو کوئٹہ کے سمونگلی روڈ سے ۲۸ جون ۲۰۲۶ کی رات ۱۰ بجے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جو کہ فرسٹ ایئر کی طالبہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری کارروائی ڈیرہ بگٹی کے علاقے بائیکر میں عمل میں آئی، جہاں ۱۷ جولائی ۲۰۲۶ کو رات ۱ بجے ۲۷ سالہ نوجوان دلشاد بلوچ ولد نظر محمد کو امن فورس نے اٹھایا اور بعد میں سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان دلشاد بلوچ کا تعلق کوہلو کے علاقے جنت علی سے ہے اور وہ بی ایچ یو (بنیادی ہیلتھ مرکز) میں بطور ویکسی نیٹر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ان دونوں واقعات نے، خاص طور پر ایک کم عمر طالبہ کی گمشدگی نے، بلوچستان کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
بلوچستان کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے اعلیٰ عدلیہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین اور نوجوانوں کی ان غیر قانونی گمشدگیوں کا فوری نوٹس لیں اور انہیں عدالتوں میں پیش کر کے انصاف کے تقاضے پورے کریں۔