کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ( سی ٹی ڈی)اور پاکستانی فوج کی حمایت یافتہ ملیشیا ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے ڈیرہ بگٹی اور خضدار میں 2 نوجوان قتل کردیئے۔
بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں سی ٹی ڈی کے تشدد سے ایک نوجوان ہلاک ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 12 جون کو سی ٹی ڈی نے جھکرا موڑ کے مقام پر ایک گھر پر چھاپہ مار کر گھر کے مالک ساجن بگٹی اور ان کے جوان بیٹے ریاض بگٹی کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔ چھاپے کے دوران سرکاری اہلکاروں نے گھر میں موجود ایک الٹو گاڑی، ایک 125 موٹر سائیکل اور تین لاکھ روپے نقد رقم بھی لوٹ لی۔
اگلے روز ساجن بگٹی کو رہا کر دیا گیا، تاہم ان کے سامنے ان کے بیٹے پر شدید تشدد کیا جا رہا تھا اور سی ٹی ڈی نے مطالبہ کیا کہ مزید 50 لاکھ روپے پہنچا کر بیٹے کو لے جاؤ۔ جب تک ساجن بگٹی بیٹے کی بازیابی کے لیے رقم جمع کرنے میں لگے رہے، اس دوران ریاض بگٹی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چند دن بعد جیسے ہی رقم کا بندوبست کر کے پہنچایا گیا، تو ریاض بگٹی کو تشویشناک حالت میں رہا کر دیا گیا۔
ورثا نے انہیں فوری طور پر ضیا الدین ہسپتال سکھر منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ بدترین تشدد کی وجہ سے نوجوان کے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہیں، لہٰذا انہیں کراچی لے جایا جائے۔
ورثا کے مطابق انہوں نے ریاض بگٹی کو آغا خان ہسپتال کراچی منتقل کیا، جہاں وہ چند روز زیر علاج رہنے کے بعد وفات پا گئے۔
واضح رہے کہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں سی ٹی ڈی کا ایس ایچ او عمر کھوسہ ہے، جس کے بارے میں پورا ضلع جانتا ہے کہ اسے سوئی میں تعینات آئی ایس آئی کے میجر رضوان اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق، اس وقت عمر کھوسہ کی قید میں 50 سے زائد مقامی بگٹی قبائلی قید ہیں جن سے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اغوا برائے تاوان کا منظم نظام آئی ایس آئی کے میجر رضوان کی نگرانی میں چل رہا ہے۔
اس نظام کو ایک باقاعدہ نیٹ ورک کے تحت چلایا جا رہا ہے؛ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے بھائی آفتاب مسوری کی جانب سے نام فراہم کیے جاتے ہیں، جس کے بعد وہ ان افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بناتے ہیں۔ بعد ازاں لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثا آفتاب مسوری، شاہ مراد نوحکانی اور ان کے خاندان کے پاس (رابطے کے لیے) جاتے ہیں، اور یہ لوگ ورثا سے کہتے ہیں کہ ‘ایس ایچ او صاحب اتنی رقم کا بول رہے ہیں، لہٰذا میں نے کم کروا کر بات اتنے تک لائی ہے’۔ پھر جب تاوان کی رقم ادا کی جاتی ہے، تو یہ رقم ایس ایچ او کھوسہ، سرفراز بگٹی کے بھائی اور شاہ مراد کے خاندان میں بانٹ دی جاتی ہے۔
دوسری جانب خضدار میں ایف ایس سی طالب علم کامران بلوچ کو ڈیتھ اسکواڈز نے نشانہ بنا کر قتل کردیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق کامران بلوچ خضدار کے علاقے مولہ سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ ایف ایس سی طالب علم تھے،آٹھ جولائی 2026 کو کامران بلوچ کو خضدار میں ڈیتھ اسکواڈز نے نشانہ بنا کر قتل کردیا۔
انہوں نے کہاکہ کامران بلوچ کا بہیمانہ قتل بلوچ عوام کے خلاف جاری تشدد اور بلوچستان میں بگڑتے ہوئے انسانی حقوق کے بحران کی ایک اور المناک یاد دہانی ہے۔
بی وائی سی کے مطابق بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف نسل کشی کا سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کسی اور بلوچ کی جان نہ لی جاتی ہو۔ خاندانوں کو بار بار اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کرنے کے بجائے ان کی لاشیں وصول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ خوف، غم اور جدائی ہزاروں بلوچ خاندانوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔
مزید کہاکہ اگر بلوچستان میں انصاف اور قانون کی حکمرانی ہوتی تو اس طرح کے مظالم جاری نہ رہتے۔ ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلے اور جبری گمشدگیوں نے ایسا خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں کوئی بلوچ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ جب بھی کوئی بچہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو اس کے خاندان کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ آیا وہ زندہ واپس آئے گا یا صرف اس کی لاش گھر پہنچے گی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف و انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے تمام اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ کوئی بھی محفوظ نہیں، نہ طلبہ، نہ اساتذہ، نہ ڈاکٹر، نہ مزدور اور نہ ہی عام شہری۔ لوگ مسلسل جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ انہیں انصاف اور جواب دہی میسر نہیں۔