ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی عمر قید کی سزائیں فوری ختم کی جائیں،اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا پاکستان سے مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

جنیوا / شال (سنگر نیوزویب ڈیسک)

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے آزاد ماہرین (UN Special Procedures) نے ایک مشترکہ اور ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے بلوچستان کی ممتاز خاتونِ اول اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (ATC) کی جانب سے دو بار عمر قید کی سزا سنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ‘انصاف کا سنگین مذاق’ قرار دیا ہے۔

یو این ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ سزائیں بلوچستان میں آزادیِ اظہار رائے پر قدغن لگانے اور انسانی حقوق کے محافظوں کی آواز کو دبانے کی ریاستی کوششوں کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب، یہ تاریخی مشترکہ بیان بلوچستان کی آزادی اور حقوق کے لیے سرگرم سیاسی تنظیم ‘بلوچ نیشنل موومنٹ’ (BNM) کی جنیوا میں کی جانے والی حالیہ تیز ترین سفارتی سرگرمیوں اور اقوامِ متحدہ کے حکام کے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں (Special Rapporteurs) اور ورکنگ گروپس نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے ایک اور رہنما صبغت اللہ شاہ جی کو جولائی 2024 کے گوادر دھرنے کے دوران فرنٹئیر کور (FC) کے ایک اہلکار کے مبینہ قتل کے کیس میں عمر قید کی سزا دینا غیر منصفانہ اور مضحکہ خیز ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ عدالت نے محض ایک پرامن احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر یہ فرض کر لیا کہ ان کا مقصد قتل کرنا تھا، اور پرامن رویے کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردی قرار دے دیا。 یہ ٹرائل جیل کے اندر منتقل کر کے ملزمان کو ذاتی طور پر پیش ہونے کے حق سے محروم کیا گیا اور انہیں مرضی کا وکیل تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یو این ماہرین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرتی ہوئی صحت اور جیل میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف 50 سے زائد ایف آئی آرز صرف انہیں ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے لیے درج کی گئی ہیں۔ بیان میں سمی دین بلوچ کے گھر پر سیکیورٹی فورسز کے حالیہ چھاپے اور ہراساں کیے جانے کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا۔

یہ مشترکہ بیان اچانک سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس کے دوران کیے جانے والے سفارتی اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

بی این ایم کے محکمہ خارجہ کے وفد نے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی سربراہی میں 22، 23 اور 24 جون کو جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے مختلف خصوصی گروپس، رپورٹرز اور انسانی حقوق کے اعلیٰ حکام سے یکے بعد دیگرے کئی اہم ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں اقوامِ متحدہ کی ٹیموں کو بلوچستان میں جاری نسل کشی، جبری گمشدگیوں، ریاستی تشدد، اجتماعی سزا، فورتھ شیڈول اور فورتھ ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) کے غلط استعمال، اور مقامی وسائل (جیسے ریکوڈک مائن) کی غیر قانونی لوٹ مار سمیت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے غیر شفاف ٹرائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔

ان ملاقاتوں کے دوران یو این حکام اور اسپیشل پروسیجرز کی ٹیموں نے بی این ایم کے وفد کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان تمام معاملات کو یکجا کر کے جلد ایک مشترکہ پریس ریلیز اور کمیونیکیشن جاری کریں گے، جس پر آج عملدرآمد دیکھنے میں آیا ہے۔

بیان جاری کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ماہرین کون ہیں؟

اس اہم مشترکہ بیان کو جاری کرنے والوں میں اقوامِ متحدہ کے درج ذیل اعلیٰ ترین آزاد مبصرین اور ماہرین شامل ہیں:

بین ساؤل (Ben Saul): دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کے تحفظ کے خصوصی نمائندے۔
گیبریلا سیٹرونی اور اراکین: جبری گمشدگیوں پر قائم اقوامِ متحدہ کا خصوصی ورکنگ گروپ۔
آئرین خان (Irene Khan): آزادیِ اظہارِ رائے اور رائے عامہ کی آزادی کی خصوصی نمائندہ۔
جینا رومیرو (Gina Romero): پرامن اجتماع اور انجمن سازی کی آزادی کی خصوصی نمائندہ۔
اینڈریا بولانوس ورگاس: انسانی حقوق کے محافظوں کی صورتحال پر خصوصی نمائندہ۔
ریم السالم (Reem Alsalem): خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خاتمے کی خصوصی نمائندہ۔
نکولس لیوریٹ (Nicolas Levrat): اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے۔
رابرٹ میک کورکوڈیل اور اراکین: بزنس اور انسانی حقوق پر قائم یو این ورکنگ گروپ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article