کوئٹہ: ہزار گنجی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 2 نوجوان جبری لاپتہ، تربت و پنجگور سے 2 نعشیں برآمد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی سے پاکستانی فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے جبکہ تربت سے ایک لاپتہ نوجوان کی نعش برآمدہوئی ہے ۔جس کی شناخت جوسک کے رہائشی علی نیاز ولد نیاز احمد کے نام سے ہوئی ہےجسے اسی ہفتے گھر سے لاپتہ کیا گیا تھا۔اسی طرح پنجگور سے بھی ایک نعش برآمد ہوئی ہے جس کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی۔

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی سے فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے۔

فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی شناخت شاہ محمد ولد محمد افضل ،شاہ نواز ولد محمد صالح جو کہ نوشکی کے علاقے احمد وال کے رہائشی کے طور پر ہوئی ہیں جبکہ پیشے کے لحاظ سے دونوں ڈرائیور بتائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کے رات آٹھ بجے ٹرک اڈا ہزار گنجی سے فورسز نے انہیں حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا ہے ۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے جوسک کے قریب سی پیک شاہراہ سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاش کو ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا۔

پولیس کے مطابق نعش کی علی نیاز ولد نیاز احمد ساکن جوسک کے نام سے ہوئی ہے۔

علی نیاز انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار جوسکی کے قریبی رشتہ دار اور معروف کاروباری شخصیت سیٹھ اعجاز علی محمد کے بھتیجے بتائے جارہے ہیں۔

فیملی کے مطابق انہیں اسی ہفتے گھر سے لاپتہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے پروم کراس سے بھی ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لاش کو شناخت اور قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article