بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی تحصیل جیونی سے رواں سال کے آغاز میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے دو سویلین ماہی گیروں کی تشدد زدہ لاشیں چھ ماہ بعد برآمد ہوئی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے ان ہلاکتوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاست کی دیرینہ "مارو اور پھینکو” (Kill and Dump) پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، جیونی کے علاقے ‘روبر’ کے رہائشی ۳۳ سالہ ماہی گیر شاہ بخش عمر (ولد عمر) کو ۷ جنوری ۲۰۲۶ کی رات فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا، جس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔ تقریباً چھ ماہ بعد ان کی لاش ملی ہے جس پر وحشیانہ تشدد کے واضح نشانات ہیں۔ تشدد کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے چہرے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور چہرے کا ڈھانچہ مسخ ہو چکا تھا۔
دوسرے واقعے میں، روبر جیونی ہی کے رہائشی ۲۸ سالہ ماہی گیر پیری عیسیٰ کو بھی ۶ جنوری ۲۰۲۶ کی رات کو گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ چھ ماہ تک خفیہ ٹارچر سیلز میں رکھنے کے بعد انہیں بھی بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش برآمد ہوئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کئی اہم نکات اٹھا یا ہے۔
بی یو سی کا کہنا ہے کہ جب بھی بلوچستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی ناکامی ہوتی ہے، تو سیکیورٹی فورسز پہلے سے لاپتہ کیے گئے سویلین بلوچوں کو منظرِ عام پر لا کر انہیں "دہشت گرد” یا "شدت پسند” ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شاہ بخش عمر اور پیری عیسیٰ کے کیسز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ عام شہری تھے جن کی جبری گمشدگی کو ان کے خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مہینوں پہلے ریکارڈ کرایا تھا۔
بی یو سی نے واضح کیا کہ گوادر کو دنیا بھر میں ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ علاقہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا مرکز بن چکا ہے، جہاں آواز اٹھانے والوں کو ڈرایا دھمکایا اور مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
کمیٹی کے مطابق، یہ اقدامات نہ صرف پاکستان کے آئین بلکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین، جینے کے حق، اور آزادی کے حق کی سنگین ترین خلاف ورزی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہ بخش عمر اور پیری عیسیٰ کا قتل بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ عالمی برادری، بشمول اقوامِ متحدہ (UN) اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو بلوچستان میں جاری ان سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور ریاستی اداروں کی جوابدہی کو یقینی بنانا چاہیے۔