بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ایک خصوصی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے پاکستانی ریاستی سیکورٹی اداروں (ایف سی، پولیس اور دیگر فورسز) میں شامل بلوچ اہلکاروں کو مخاطب کیا ہے اور انہیں اپنے ہی عوام کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا حصہ بننے پر سخت تنقید کی ہے۔
اپنے پیغام میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے فورسز میں شامل بلوچوں کو ان کی قومی، ثقافتی اور اخلاقی ذمہ داریاں یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وردی اور عارضی طاقت کی خاطر اپنے ہی مظلوم بہن بھائیوں پر ظلم کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے گزشتہ روز تربت میں پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ تربت، جو ہمیشہ سے مزاحمت کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، آج وہاں ایک دردناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ فورسز کی جانب سے ان خواتین، بچوں اور خاندانوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے جو اپنے لاپتہ پیاروں کی باحفاظت واپسی کا مطالبہ لے کر پرامن طور پر باہر نکلے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل المیہ یہ نہیں کہ پرامن مظاہرین کو گرفتار یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بلکہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس تشدد کو عملی جامہ پہنانے والے بہت سے اہلکار خود بلوچ تھے۔ انہوں نے اہلکاروں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ وردی پہننے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اپنی شناخت مٹا دیں اور ہاتھ میں لاٹھی آنے سے آپ کو اپنے ہی لوگوں پر ظلم کا کوئی حق حاصل نہیں ہو جاتا۔
رہنما بی یو سی نے سوال اٹھایا کہ ہماری ثقافت، روایات اور اقدار کبھی بھی خواتین، بزرگوں اور نہتے لوگوں پر تشدد یا ان کی تذلیل کی اجازت نہیں دیتیں۔ انہوں نے اہلکاروں سے پوچھاکہ آپ کو یہ حق کس نے دیا؟ کیا آپ کی دھرتی، آپ کی ثقافت، آپ کی غیرت یا آپ کے ضمیر نے؟ یا صرف اس وردی نے جو آپ نے پہن رکھی ہے؟
انہوں نے ایک افسوسناک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خوف اور جبر کے ماحول کی وجہ سے سید بی بی اور ان کے بچوں کو رات ایک قبرستان میں گزارنی پڑی۔ کیا کوئی بھی غیرت مند معاشرہ یا ایمان اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ ایک ماں کو اپنے بچوں کے ساتھ قبرستان میں پناہ لینی پڑے؟ ایسا سلوک کوئی انسان یا بلوچ نہیں بلکہ انسانیت سے عاری شخص ہی کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے فورسز میں شامل بلوچوں کو آخرت اور انجام کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ طاقت اور وردی عارضی چیزیں ہیں جو ایک دن چھن جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ یاد رکھیں، جب آپ کا جنازہ اٹھے گا تو اسے کندھا دینے والے یہی بلوچ ہوں گے، اور جب آپ کو دفنایا جائے گا تو یہ دھرتی آپ کو گلے لگائے گی، نہ کہ وہ وردی یا اختیار جو آج آپ کے پاس ہے۔ اس دن کے آنے سے پہلے رکیں اور سوچیں کہ آپ کس راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
بیان کے آخر میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ایف سی، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینے والے بلوچوں کو صاف لفظوں میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف اقدامات میں حصہ لینا صرف ‘حکم کی تعمیل’ نہیں، بلکہ یہ بلوچ نسل کشی میں برابر کی شراکت داری ہے۔ اگر آپ نے یہ سلسلہ بند نہ کیا تو تاریخ آپ کو ایک قابض اور استعمار کے آلہ کار کے طور پر یاد رکھے گی۔ اس لیے گہرائی سے سوچیں کہ آپ آنے والی نسلوں کے لیے کیا وراثت چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔