تربت سے پاکستانی فورسز ہاتھوں ایک بلوچ خاتون کی جبری گمشدگی کی اطلاعات

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں ایک خاتون کی گرفتاری اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقلی اطلاعات سامنے آئے ہیں۔

جبری لاپتہ کئے گئے خاتون کی شناخت سید بی بی کے نام سے ہوگئی ہے ۔سید بی بی، بی وائی سی کے رکن اور ایک ایکٹیوسٹ ہونے کے علاوہ بلوچی زبان کے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر حنیف شریف کی ہمشیرہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سید بی بی کو آج تربت کے علاقے شاہی تمپ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔

اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے بعد انہیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل گیا ہے۔

تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے رہنماؤں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف کل تربت میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تنظیم کی جانب سے احتجاجی ریلی میں کارکنوں اور شہریوں سے شرکت کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

دوسری جانب، ممکنہ احتجاج کے پیش نظر تربت پولیس نے ضلع کیچ میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ حکام کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عوامی اجتماعات، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی عائد ہوگی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article