پی ٹی ایم رہنما زبیر شاہ آغا کی گرفتاری، سیاسی انتقام اور ریاستی خوف کا اعتراف ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے مرکزی رہنما زبیر شاہ آغا کی کوئٹہ سے زبردستی حراست اور بعد ازاں انھیں ‘تھری ایم پی او’ (3MPO) کے تحت گرفتار ظاہر کرنے کے اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بی وائی سی نے اپنے آفیشل بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ ریاست پرامن سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کی آوازوں کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا سہارا لے رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، 28 جون بروز اتوار شال (کوئٹہ) میں بی وائی سی کے اسیر رہنماؤں کے لواحقین اور آل پارٹیز کی اہم پریس کانفرنس کے فوراً بعد پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے زبیر شاہ آغا کو زبردستی حراست میں لے لیا تھا۔ اب انتظامیہ کی جانب سے انھیں مروجہ کالے قانون ‘تھری ایم پی او’ (نقصِ امن کا قانون) کے تحت گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت اب بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ‘3MPO’ اب کوئی قانون نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے بلوچستان اور دیگر مظلوم خطوں میں پرامن سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی جا رہی ہے اور سچ لکھنے و بولنے والوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں ریاست کی اس حکمتِ عملی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ جب دلیل کمزور پڑ جائے تو ریاست ہمیشہ گرفتاریوں، دھمکیوں اور جبر کا سہارا لیتی ہے۔ زبیر شاہ آغا کی یہ گرفتاری کسی جرم کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے مستقل سیاسی مؤقف اور حق گوئی کی سزا ہے۔ ہر ایسی گرفتاری دراصل اس خوف کا واضح اعتراف ہے جو طاقتور حلقے سچ بولنے والی پرامن آوازوں سے محسوس کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ زبیر شاہ آغا ایک پُرامن سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے ہمیشہ ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے اور محکوم اقوام کے حقوق، انصاف اور انسانی وقار کی جدوجہد میں مسلسل یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حکومتِ بلوچستان اور مقتدر حلقوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما زبیر شاہ آغا کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، ان پر قائم کیے گئے بے بنیاد مقدمات خارج کیے جائیں اور شہریوں کے بنیادی، آئینی و جمہوری حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article