گاڑیوں پر حملے و نذرآتش کرنے کےخلاف بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں بدامنی کی سنگین صورتحال کے باعث تاجر تنظیموں ،ٹرانسپورٹرز،ملازمین کی ٹریڈ یونین فیڈریشن کی جانب سے بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈوان ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کاروباری سرگرمیاں اور قومی اور بین القوامی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے اور نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔

کوئٹہ میں تمام مارکیٹیں، کاروبار مراکز ، پلازے اور بازار مکمل طور پر بند ہیں ہڑتال میں شامل تنظیموں کی جانب سے کوئٹہ سے اندرون بلوچستان اورپاکستان کو جانے والی بین الصوبائی، بین الاقوامی شاہراہوں کو گاڑیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک کی آمدو رفت کے لئے بند کر رکھا ہے۔

جس طرح کوئٹہ سے چمن، ڈیرہ غازی خان، ژوب، زیارت شاہراہ کو کچلاک اور دیگر مقامات سے اسی طرح کوئٹہ سے نوشکی، مستونگ، خضدار، کراچی شاہراہ کو لکپاس اور مستونگ سمیت دیگر مقامات پر کوئٹہ سے نوشکی تفتان اور کوئٹہ سے سبی جیکب آباد شاہراہ کو کولپور کے مقام پر بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت بلوچستان محکمہ داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ہڑتال سے متعلق زیادہ تر مطالبات کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے حکومت بلوچستان دونوں کے درمیان سہولت کار اور ثالث کا کردار ادا کررہی ہے ۔بلوچستان حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان کی تاجر برادری سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کئی سالوں سے معدنیات لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کئے جارہے ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ان واقعات میں تیزی آئی ہے کچھ مہینوں میں بلوچستان کے علاقوں نوشکی ،ہرنائی خضدار ،تربت ،پنجگور ،پشین ،ژوب سمیت دیگر مقامات پر درجنوں گاڑیاں نذراتش کی گئیں ۔

ٹرانسپورٹ تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار پانچ ہفتوں کے دوران ٹرانسپورٹروں کی درجنوں گاڑیوں کو مال سمیت نذر آتش کیا گیا ، نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گاڑیوں کو جلانے سے ٹرانسپورٹروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ شاہراہوں کو سفرکے لئے محفوظ بناکر ٹرانسپورٹروں اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی نے میڈیا کو بتایا کہ بلوچستان میں ٹرک جلائے جانے سے ٹرانسپورٹرز،تاجروں اورمائنزاونرزکونقصان پہنچ رہا ہے ،وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر بلوچستان کی شاہراہوں کوسفر کیلئے محفوظ بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔

وکلاء تنظیموں نے بھی بلوچستان میں بدامنی کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور وکلاء بطور احتجاج عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

مختلف ملازمین تنظیموں کے اتحاد پر مشتمل گرینڈالائنس نے تاجروں ٹرانسپورٹروں ،مائنز اونرز اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے بلوچستان بھر کے سرکاری دفاتر میں سیاہ جھنڈے لہرائے۔

سربراہ گرینڈ الائنس پروفیسر عبد القدوس کاکڑ نے کہاکہ 15 جون کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گااور اسی روز تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کے دن کوئٹہ میں پرامن دھرنا دیں گے جب تک 12 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہیں ہوتا احتجاج جاری رہیگا۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں صرف معدنیات لے جانے والے گاڑیوں پر مسلح افراد کے حملے رپورٹ ہورہے ہیں ۔جن کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں ۔ان کا موقف ہے کہ بلوچستان کی معدنیات یہاں کے قومی ملکیت ہیں ان کی کسی بھی صورت لوٹ مار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article