بلوچستان کے علاقے کردگاپ میں سیندک سے معدنیات لیجانے والی گاڑیوں اور پاکستانی فورسز کو مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔اسی طرح زہری میں فوج پر حملے اور دن بھر جھڑپیں جاری جہاں مسلح افراد نے فورسز اسلحات کو تحویل میں لے لیا۔
خضدار کے علاقے زہری میں پاکستانی فوج کو ایک بار پھر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، دن بھر جاری رہنے والی جھڑپوں میں فورسز کو نقصانات کا سامنا، حملہ آوروں نے فورسز اسلحہ و گولہ بارود تحویل میں لے لیا۔
زہری کے علاقے بلبل میں گذشتہ روز ایک دفعہ پھر پاکستانی فوج کو اس وقت حملوں کا سامنا کرنا پڑا جب فورسز نے علاقے میں متعدد گاڑیوں، جن میں بکتر بند اور ٹینک شامل تھیں، میں پیش قدمی کی۔
اطلاعات کے مطابق فورسز کے قافلے کو مختلف اطراف سے مسلح افراد نے حملوں میں نشانہ بنایا جس کے بعد دن بھر جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہی۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور فورسز کا اسلحہ و گولہ بارود بھی تحویل میں لینے کامیاب ہوئے ہیں تاہم جانی نقصانات کے حوالے سے حکام نے تاحال کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔
گذشتہ دنوں اسی علاقے میں پاکستانی فورسز کو حملوں میں جانی نقصانات اٹھانے پڑے تھیں۔ مذکورہ حملے کی ذمہ داری بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نے قبول کی تھی۔
اسی طرح ضلع مستونگ میں سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں اور ان کو سیکورٹی فراہم کرنے والے فورسز کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا ہیں۔
شام کے وقت مستونگ کے علاقے کردگاپ میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے کوئٹہ – تفتان شاہراہ (آر سی ڈی) پر سیندک پروجیکٹ سے معدنیات لیجانے والی نو ٹرالر گاڑیوں اور ان کو سیکورٹی فراہم کرنے والے فورسز کی تین گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق حملے کے نتیجے میں معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ فورسز کو بھی جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایک علاقائی ذرائع کے مطابق پہلے سے مورچہ زن حملہ آوروں نے خودکار ہتھیاروں سمیت راکٹ لانچروں کا استعمال کیا۔ جہاں دیر تک علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنائی دی۔ حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔
ان حملوںکی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے ۔تاہم گذشتہ مہینے بلوچ لبریشن آرمی نے کوئٹہ – تفتان شاہراہ پر معدنیات لیجانے والی گاڑیوں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔