بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مرکزی شاہراہیں مسلسل دوسرے روز بھی مسلح بلوچ آزادی پسندوں کے کنٹرول میں رہیں، جہاں ناکہ بندیوں، اسنیپ چیکنگ، بھاری گاڑیوں پر حملوں اور تعمیراتی کمپنیوں کی مشینری کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
بلوچستان بھر میں صورتحال کشیدہ ہے جبکہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔
بیلہ اور اورناچ کے درمیان ولہ پٹ کے مقام پر مسلح افراد کی بھاری تعداد نے کوئٹہ–کراچی مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی قائم کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی۔ اسی دوران ایک تعمیراتی کمپنی کے سائٹ پر حملہ کیا گیا، جہاں بھاری مشینری اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا۔
چمالنگ–کوہلو روڈ پر بھی مسلح افراد نے شاہراہ کا کنٹرول سنبھال کر گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی، جس کے باعث ٹریفک معطل رہی اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
نوشکی کے علاقے احمد وال میں نامعلوم مسلح افراد نے معدنیات لیجانے والی گاڑیوں پر فائرنگ کی اور متعدد ٹرالر و بوزر گاڑیوں کے ٹائر برسٹ کر دیے۔ اس سے قبل بھی اسی مقام پر معدنیات بردار گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
خاران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گواش روڈ پر قائم فورسز کی وڈھ چیک پوسٹ پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔ علاقے میں تین زوردار دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم نقصانات کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہو سکیں۔
مسلح بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے شاہراہوں پر کنٹرول کے اعلان اور مسلسل حملوں کے بعد کوئٹہ–تفتان روٹ سمیت بلوچستان بھر میں معدنیات لیجانے والی گاڑیوں نے غیر معینہ مدت تک لوڈنگ بند کر دی ہے، جس سے معدنیات کی ترسیل مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے۔