پاکستان اور بیرک مائننگ کارپوریشن اربوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک تانبہ و سونا منصوبے کی سیکیورٹی ضروریات کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر مزید مؤثر بنانے پر کام کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اخراجات میں اضافے کا امکان ہے۔
او جی ڈی سی ایل (آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد حیات لک نے تصدیق کی ہے کہ بیرک گولڈ کی ایک ٹیم اس وقت پاکستان میں موجود ہے جو منصوبے کی سیکیورٹی اپ گریڈیشن پر بات چیت کر رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احمد حیات لک نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے کے معاہدے میں سیکیورٹی انتظامات سے متعلق واضح شقیں موجود ہیں اور شراکت دار ممکنہ سیکیورٹی اپ گریڈیشن پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق منصوبے کے سیکیورٹی انتظامات اور خریداری منصوبوں کا باضابطہ جائزہ لے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق ہونے والا یہ جائزہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا سیکیورٹی میں مزید بہتری اور اضافی فنڈنگ کی ضرورت ہے یا نہیں، تاہم منصوبے کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری میزبان ملک پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔
احمد حیات لک نے بتایا کہ حال ہی میں کینیڈا میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران قرض فراہم کرنے والے اداروں نے موجودہ سیکیورٹی انتظامات پر اعتماد کا اظہار کیا، کیونکہ فنڈنگ کے فیصلے سے قبل انہوں نے اپنی جانچ پڑتال مکمل کر لی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے مالیاتی ادارے بھی اس منصوبے میں شمولیت میں گہری دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ بیرک کے ایگزیکٹو چیئرمین جان ایل تھورنٹن نے حال ہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حکومت کے ساتھ سیکیورٹی صورتحال اور منصوبے کی خریداری حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ دنیا کی صفِ اول کی کان کنی کمپنیوں میں شامل بیرک، عالمی اور مقامی چیلنجز کے باوجود ریکوڈک منصوبے سے اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ذرائع کے مطابق وفد نے مسابقتی بولی کے ذریعے جدید اور بھاری مشینری کی خریداری، جبکہ منصوبے کے قرض اور مالیاتی ڈھانچے کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی غور کیا۔