بلوچستان کے ضلع گوادر شہر سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 2 نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے بعد حق دو تحریک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ ضلع کیچ کے مضافاتی علاقے پیدارک میں سردار عزیز نامی شخص کے گھر سے ایک لاش برآمدہوئی ہے۔
حق دو تحریک بلوچستان نے مرکزی چیئرمین واجہ حسین واڈیلہ کے فرزند حمل واڈیلہ اور نوجوان اسد کو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی جانب سے گوادر کے ایک دکان سے اٹھائے جانے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔
حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حمل واڈیلہ کو ماورائے آئین انداز میں اٹھایا جانا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے گوادر کے عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پرامن سیاسی و سماجی کارکنوں اور نوجوانوں کو ہراساں کرنا مسائل کا حل نہیں اور متعلقہ ادارے اپنی طاقت حقیقی جرائم اور بدامنی کے خاتمے کیلئے استعمال کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر حمل واڈیلہ اور اسد نامی نوجوان کو آج رات 9 بجے تک بازیاب نہ کیا گیا تو گوادر کے مختلف علاقوں میں بھرپور عوامی ردعمل سامنے آئے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
حق دو تحریک بلوچستان نے کارکنان کو بھی ممکنہ احتجاج کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے مضافاتی علاقے پیدار ک سے سردار عزیز نامی شخص کے بند گھر سے ایک لاش برآمدہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق تربت کے نواحی علاقہ پیدارک میں سردار عزیز کی ایک بند رہائش گاہ کے برآمدے سے تین دن پرانی لاش ملی ہے جس کے گلے میں پھندہ ڈال کر اسے لٹکایا گیا، ممکنہ طور پر اسے خود کشی بھی کہا جارہا ہے۔
لاش کی شناخت نواب ولد صوالی سکنہ پیدراک کے نام سے ہوئی ہے۔
مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔