کوئٹہ ٹرین حملہ : فدائی بلال کے والدہ ، دو بھائیوں سمیت 5 افراد جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں 24 مئی بروز اتوار کو فوجی ٹرین پر فدائی حملے کے بعد جس کی ذمہ داری بعد ازاں بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ ایک فدائی تھا اور اس کو تنظیم کے مجید بریگیڈ کے ایک فدائی کمانڈر بلال شاہوانی عرف سائیں نے سرانجام دیا ہے کے تفصیلات جاری کرنے کے بعد پاکستانی فورسز نے رات گئے کوئٹہ شہر میں واقع فدائی بلال کے گھر پر چھاپہ مار کر اس کے والدہ ، دو بھائیوں سمیت 5 افراد کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

فدائی بلال کے بھائیوں کی شناخت بابل اور عمر کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایک کزن کی شناخت راشد کے نام سے ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان کے دو دیگر رشتہ داروں کو بھی جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال فروری میں فدائی بلال کے والد نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلال سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم آج ہونے والے فدائی حملے کے بعد پاکستانی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، اہل خانہ کو ہراساں کیا اور ان کے دو بھائیوں کو جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

واضح رہے کہ فدائی بلال نے 24 مئی کوکوئٹہ شہر میں ایک عسکری شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کوئٹہ سے پشاور اور پنجاب جانے والے فورسز اہلکاروں کے جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے)کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ کینٹ فوجی ٹرین پر مجید بریگیڈ کے فدائی حملے میں 82 فوجی اہلکار ہلاک اور 121 زخمی ہوگئے۔جبکہ سرکاری طور پر 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جارہی ہے۔

ماضی میں بھی پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپوں ، فدائی حملہ یا دیگر محاذ میں شہید ہونے والے سرمچاروں کی جب تنظیم کی جانب سے تفصیلات منظر عام پر جاری کردی جاتی تھیں تو عسکری حکام کی جانب سے ان کی فیملی ممبران کو انتقامی کارروائی کے تحت ریاست کی رائج پالیسی "جبری گمشدگی” کے تحت لاپتہ کیا جاتا رہا ہے ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article