بلوچستان میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں۔کوئٹہ ٹرین دھماکے کے بعد مستونگ اور قلات میں مسلح افراد نے فورسز پر بھاری حملے کئے ہیں اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ان حملوں اور جھڑپوں میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 4 فورسز اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ بارکھان میں مسلح افراد نے کوئلہ سے لدی ایک ٹرک کو نذرآتش کردیا۔
ضلع مستونگ سے اطلاعات ہیں کہ پاکستانی فورسز کو مسلح افراد نے اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں فوجی آپریشن کے لئے موجود تھے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے فورسز کو مستونگ کے علاقے کردگاپ میں نشانہ بنایا اور اس کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیںجو کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملے میں پاکستانی فورسز کے 4 اہلکار ہلاک ہوگئے۔حکام نے تاحال کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔
دوسری جانب قلات کے علاقے گراڑی کے مقام پر فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ کی اطلاعات ہیں جس کے بعدمنگچر بدرنگ کے مقام پر ٹریفک کو روک دی گئی ہے۔
دریں اثنا بارکھان کے علاقے رکنی میں چنگ ندی کے قریب مسلح افراد نے کوئلہ سے لوڈ ٹرک کو آگ لگا دی جس سے ٹرک مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا۔
واقع میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔