بلوچستان کے مر کزی شہر کوئٹہ میں ہونے و الے ٹرین دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین میں 326 پاکستانی فوجی اہلکار سوار تھے جو عید منانے کے لئے اپنے آبائی علاقے جا رہے تھے ۔
حکام نے دھماکے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اتوار کی صبح تقریباً 8:00 بجے کوئٹہ چھاؤنی سے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن جانے والی شٹل ٹرین کو گاڑی سے چلنے والے جان لیوا دیسی ساختہ بم (VBIED) حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
ٹرین میں مبینہ طور پر 326 پاکستانی فوجی اہلکار سوار تھے جب زور دار دھماکہ ہوا، جس کی وجہ سے اس کی تین بوگیوں میں سے ایک الٹ گئی۔
حکام نے بتایا کہ ٹرین میں سوار کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ 130 سے زائد دیگر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے سول اسپتال کوئٹہ، ایف سی اسپتال اور کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کردیا گیا۔
جائے وقوعہ پر امدادی اور بازیابی کی کارروائیاں جاری ہیں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ اُلٹی ہوئی بوگی سے مسافروں کو نکالنے کی کوششیں جاری رہنے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کے حوالے سے ترجمان ریلوے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہنا تھا کہ کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جبکہ واقعے کی رپورٹ بھی جلد سامنے آ جائے گی۔
حملے کی ذمہ داری بلوچستان کی آزادی پسند سرگرم و متحرک مسلح تنظیم بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک فدائی حملہ تھا جسے تنظیم کی مجید بریگیڈیونٹ نے سرانجام دیا ہے۔