بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک کے قریب کینٹ سے نکلنے والی ایک ٹرین کو ریلوے ٹریک کے نزدیک حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ٹرین کی متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔
واقعہ خودکش دھماکے کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے، جبکہ جائے وقوعہ پر شدید فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
واقعے کے فوراً بعد ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی ،ایمبولینسز اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے کی جانب روانہ کر دی گئی۔
سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ہلاک افراد میں سے 8 لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور چھوٹے بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ریلوے لائن کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ٹریک پر ٹرین کی بوگیاں اُلٹی ہوئی ہیں۔
ٹرین کینٹ سے آرہی تھی جب دھماکے کا نشانہ بنی ۔
جائے وقوعہ سے ایک عینی شاہد نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے ٹرین کی دو بوگیاں الٹ گئی ہیں جن میں آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے ایک بوگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اتوار کی صبح ہونے والے اس دھماکے کے حوالے سے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے واقعے کی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
جائے وقوعہ سے ایک عینی شاہد عرفان خان نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے ٹرین کی دو بوگیاں الٹ گئی ہیں جن میں آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے ایک بوگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دھماکے کی وجہ سے ٹریک کے ساتھ بعض کاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر میں دور تک سنائی دی۔