کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ جاری ، مولانا ہدایت الرحمان کا دورہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ آج 6173ویں روز بھی جاری رہا۔

اس دوران جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے ایک وفد کے ہمراہ احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

انہوں نے وی بی ایم پی کے طویل عرصے سے جاری پرامن احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے اور تنظیمی رہنماؤں کو جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد سے دستبردار کرانے کی کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ وی بی ایم پی کے رہنماؤں کو دھمکیاں دینا پرامن آوازوں پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے پرامن آوازوں کو دبانے سے بلوچستان کے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ جمہوری جدوجہد کرنے والوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید کمزور ہوگا، جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ وی بی ایم پی رہنماؤں کو دی جانے والی دھمکیوں کا معاملہ وہ صوبائی اسمبلی میں اٹھائیں گے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وی بی ایم پی کے رہنماؤں اور پرامن احتجاجی کیمپ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے جبری گمشدگیوں کے مکمل خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ بھی کیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ منفی ہتھکنڈوں سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔

نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل ہوچکا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جارہا اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھی بدستور سامنے آرہے ہیں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article