بلوچستان کابینہ نے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں بلوچستان کے انتظامی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی منظوری دے دی ہے۔
فیصلوں کے مطابق بلوچستان میں تین نئے اضلاع اور ایک نیا ڈویژن قائم کیا جا رہا ہے، جس کے بعد بلوچستان میں اضلاع کی تعداد 36 سے بڑھ کر 42 اور ڈویژنز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 11 ہو گئی ہے۔
اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، تاہم وزیراعلیٰ کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے ان فیصلوں کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
دستاویزات کے مطابق بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ایک کا نام کوئٹہ ایسٹ اور دوسرے کا نام کوئٹہ ویسٹ رکھا گیا ہے۔ریلوے ٹریک دونوں اضلاع کے درمیان سرحد تصور ہوگا۔کوئٹہ ویسٹ میں بروری کے نام سے نئی سب ڈویژن بھی قائم کی جائے گی۔
مزید یہ کہ ضلع مستونگ کو قلات ڈویژن سے نکال کر کوئٹہ ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے۔
کابینہ نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے آبائی علاقے وڈھ کو خضدار سے الگ کر کے نیا ضلع بنانے کی منظوری دی ہے، جس میں شامل ہوں گے وڈھ،نال،اورناچ۔
ساتھ ہی قلات ڈویژن کو تقسیم کر کے لسبیلہ ڈویژن قائم کیا گیا ہے، جس میں لسبیلہ، حب اور آواران شامل ہوں گے۔سابق قلات ڈویژن کا نیا نام خضدار ڈویژن ہوگا۔
کابینہ نے ضلع شہید سکندر آباد کا نام تبدیل کر کے دوبارہ سوراب رکھنے کی منظوری دی ہے، جبکہ زہری کو خضدار سے نکال کر سوراب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
ایران سرحدی علاقے چاغی کو تقسیم کر کے تفتان کے نام سے نیا ضلع قائم کیا گیا ہے، جس میں شامل ہوں گے تفتان،نوکنڈی،ماشکیل (سابقہ حصہ ضلع واشک)۔
پشین ڈویژن میں اب پشین، برشور، چمن اور قلعہ عبداللہ شامل ہوں گے۔
مکران کا انگریزی ہجے مقامی تلفظ کے مطابق Makuran کر دیا گیا ہے۔
ضلع شیرانی کا ہیڈکوارٹر ستونہ راغہ سے مانی خواہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
کچھی کو نصیرآباد سے نکال کر سبی (سیوی) ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے۔
سبی ڈویژن کا نام تبدیل کر کے سیوی ڈویژن رکھ دیا گیا ہے۔
ضلع زیارت کو سبی سے نکال کر لورالائی ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
ان فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں وزیر صادق عمرانی، وزیر عاصم کرد گیلو اور چیف سیکریٹری بلوچستان شامل ہیں۔
اجلاس کے آغاز میں وزیر ریونیو عاصم کرد گیلو نے مشاورت نہ ہونے پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا، جس پر وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ یہ تشکیلِ نو سیکیورٹی اور انتظامی ضروریات کے تحت کی جا رہی ہے۔
شاہد رند کے مطابق کوئٹہ اور خضدار جیسے بڑے اضلاع میں عوام کو ہیڈکوارٹرز دور ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات تھیں۔ نئی حلقہ بندی سے عوام کو سہولیات ان کی دہلیز پر ملیں گی اور انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی۔