بلوچستان میں مرکزی شاہراہوں پر مسلح افراد کا کنٹرول، 14 سے زائد معدنیات کی گاڑیاں نذرِ آتش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مسلح افراد نے بیک وقت متعدد مرکزی شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال کر گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی، جبکہ معدنیات، تیل اور دیگر سامان لے جانے والی14 سے زائد بھاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

بلوچستان میں ایک ہی دن میں پیش آنے والے یہ واقعات سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

جمعرات کی صبح خضدار کے علاقے ونگو میں سی پیک روٹ (ایم–8) پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے مرکزی شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے چیک پوائنٹس قائم کیے، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہے۔

پاکستانی فورسز نے پیش قدمی کی کوشش کی تو فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، جو طویل وقت تک جاری رہیں۔

ہرنائی کے علاقے مانگی میں بھی مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ کا کنٹرول سنبھال لیا اور معدنیات لے جانے والے ٹرکوں سمیت روڈ تعمیراتی کمپنی کی مشینری کو آگ لگا دی۔

دالبندین کے علاقے چہتر میں مسلح افراد نے کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کرکے تین گھنٹوں سے زائد اسنیپ چیکنگ جاری رکھی۔

اس دوران سیندک پروجیکٹ کے لیے آئل لے جانے والے ٹینکرز سمیت 10 سے زائد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔

تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسی روز پنجگورچیدگی روٹ پر بھی مسلح افراد نے کنٹرول سنبھال کر اسنیپ چیکنگ کی، جس دوران چار بھاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

یہ تمام واقعات چند گھنٹوں کے اندر اندر پیش آئے، جس کے نتیجے میں خضدار، ہرنائی، دالبندین اور پنجگور میں مرکزی شاہراہیں متاثر ہوئیں اور درجنوں بھاری گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تاحال کسی جامع ردعمل یا تفصیلی بیان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article