بلوچستان و سندھ کے سمندری علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے معاہدوں پر دستخط

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے سمندری علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش کا عمل تقریباً 20 سال بعد دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں اور ایکسپلوریشن لائسنسز پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر پٹرولیم نے شرکت کی۔

معاہدے کے مطابق ابتدائی تین سالہ لائسنس مدت کے پہلے مرحلے میں 82 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

حکام کے مطابق اگر دوسرے مرحلے میں ڈرلنگ تک پیش رفت ہوتی ہے تو مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس آف شور بیسن اور مکران آف شور بیسن میں بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل 23 آف شور بلاکس کی منظوری دی گئی ہے، جہاں تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر کی تلاش کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف ملکی توانائی کے شعبے کو تقویت ملے گی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور ساحلی علاقوں کی اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں معدنی شعبہ بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے مسلسل اور مہلک حملوں کی زد میں ہے۔ رواں ہفتے متعدد ٹرک، جو خام معدنیات سے بھرے تھے، نذرِ آتش کیے گئے جبکہ معدنی شعبے سے وابستہ 20 سے زائد افراد مختلف شاہراہوں پر ناکہ بندی کے دوران گرفتار ہوئے۔ ان میں سے تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

دوسری جانب اس صورتحال پر بلوچستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ عدم تحفظ کے باعث وہ معدنیات کی ترسیل کا عمل جاری نہیں رکھ سکتے۔

واضح رہے کہ بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں بارہا یہ اعلان کر چکی ہیں کہ بلوچستان کے معدنی وسائل بلوچ قوم کی ملکیت ہیں اور ان کی لوٹ کھسوٹ کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article