بلوچستان کے نوشکی شاہراہ پر مسلح افراد کی ناکہ بندی کے دوران ریکوڈک پروجیکٹ کے 17 افراد کو گرفتارکرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ ضلع نوشکی سمیت دالبندین اور مستونگ میں کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ بدستور بلوچ لبریشن آرمی کے زیر کنٹرول، شاہراہوں پر چیک پوائنٹس قائم و اسنیپ چیکنگ جاری ہے۔
گذشتہ روز شام کے وقت نوشکی کے علاقے مَل میں مسلح افراد نے دوران ناکہ بندی ریکوڈک پروجیکٹ سے منسلک 17 افراد کو اپنے حراست میں لے لیا۔ مذکورہ افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام افراد بلوچستان سے معدنیات نکالنے والی ‘ریکوڈک پروجیکٹ’ سے منسلک ہیں۔
اس سے قبل ضلع چاغی کے مرکزی شہر دالبندین کے علاقے چہتر میں معدنیات نکالنے والی کمپنی MCC سے وابستہ 3 افراد کی گولیاں لگی لاشیں ایک ہائی وے سے برآمد ہوئی ہیں۔جنہیں 13 مئی کو مسلح افراد نے دوران ناکہ بندی حراست میں لیا تھا اور تینوں کا تعلق سیندک پروجیکٹ کے ساہ دک کاپر پروجیکٹ کے سے بتایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دنوں مستونگ، خاران اور نوشکی کے قریب بلوچستان سے معدنیات لیجانے والی گاڑیوں اور ان کی سیکیورٹی پر مامور پاکستانی فورسز کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے ضلع نوشکی میں سیندک سے سونا اور دیگر معدنیات لے جانے والی بیس سے زائد ٹرالر گاڑیوں اور ان کی سیکیورٹی پر مسلح افراد کی بڑی تعداد نے راکٹوں اور دیگر ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آٹھ سے زائد گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ اس حملے میں پاکستانی فورسز کے چھ سے زائد اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ خاران میں معدنیات لے جانے والی دو جبکہ مستونگ میں تین گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا، جبکہ دالبندین سے معدنیات نکالنے والی کمپنی سے منسلک تین افراد کو مسلح افراد نے حراست میں لیا۔
مذکورہ واقعات کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں ملوث گاڑیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔